1947 کے تقسیم کے بعد کے عالمی اقتصادی نظام کو ٹی

کنالوجی نے تبدیل کر دیا تھا۔ اب ہر انسان کے اندر

ایک "ذہنی ریکارڈ" تھا جو اس کے تمام خف

یہ گناہوں

اور درست فیصلوں کو لکھتا رہتا تھا۔ یہ ریکارڈ حک

ومت کے پاس موجود تھا، لیکن چند خاص لوگوں کو اسے

ہٹانے کی قوت تھی۔ ایک ایسا شخص، جج محمد علی، تھا

۔ وہ ایک ایماندار، محبت کرنے والے، اور اپنے اصول

وں کو ہمیشہ سامنے رکھنے والے شخص تھے۔

تقسیم کے بعد کے بے چین حالات میں، ایک ہائی کورٹ

کیس نے جج کو ایک غمگین سیاسی سازش کے سامنے لے آی

ا۔ اس کیس میں ایک عدالتی افسر کو ایک سمگلنگ روٹ

کے ذریعے ملک کے دفاعی نظام کے خلاف اقدام کرنے کا

الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس کیس کی حقیقت کھولنے

کے لئے جج کو ایک خطرناک چیلنج کا سامنا تھا: اس ک

ے ذہنی ریکارڈ کو دوبارہ فعال کرنا۔ اس وقت تک، اس

کے ذہنی ریکارڈ کو فعال کرنے کے لئے ایک خاص ٹیکن

الوجی کی ضرورت تھی، جس کو ایک ہی شخص اپنے اختیار

ات کے تحت استعمال کر سکتا تھا۔

جج نے اپنے بھتیجے کو مدد کے لئے بلایا۔ بھتیجا ای

ک سائنس فکشن کی طرح کے ماحول میں تربیت یافتہ تھا

، جہاں انسانوں کے ذہنوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے نی

ا راستہ دیا جاتا تھا۔ اس نے ایک غمگین سیاسی سازش

کے سامنے جج کو ایک نئی دنیا کی طرف لے جانا تھا،

جہاں زمین پر ہر چیز دوبارہ شروع ہو جاتی تھی۔

جج کو اس نئی دنیا میں ایک خاص قانون پر عمل کرنا

پڑا: "ہر فیصلہ انسان کے ذہنی ریکارڈ میں محفوظ ہو

تا ہے۔ اس کو ہٹانے کے لئے ایک منفرد ٹیکنالوجی کی

ضرورت ہوتی ہے۔" جب جج نے اس ٹیکنالوجی کو استعما

ل کیا تو، اس کے ذہن میں ایک نئی سیاسی سازش کی حق

یقت ابھری۔ اس سازش کے ذریعے ملک کی سالمیت کو خطر

ہ تھا۔

جج نے اپنے اصولوں کو ہمیشہ سامنے رکھتے ہوئے اس س

ازش کا اعلان کر دیا۔ اس نے اپنی ایمانداری کے باو

جود اس سازش کے خلاف ایک غمگین سیاسی فیصلہ سنایا۔

اس فیصلے نے ملک کی سیاسی دنیا کو ایک نئی سمت می

ں لے جایا۔

ایک ایماندار جج، ایک سائنس فکشن کی طرح کی دنیا،

ایک غمگین سیاسی سازش، اور ایک سمگلنگ روٹ نے اس د

نیا کو تبدیل کر دیا۔ اس دنیا میں، ہر فیصلہ ایک ن

ئی سیاسی تحریک کا آغاز بن گیا۔