1965 کے بعد کے پنجاب میں، تقسیم کے زخم ابھی تازہ
تھے۔ کالعدم "حویلی نظام" کے باقیات پر
وفاقی حکو
مت نے نئے قوانین لاگو کیے: تمام قدیم خاندانوں کے
مرکزی گھروں کو الیکٹرومیغناطیسی فیلڈز سے منسلک
کر دیا گیا تاکہ حرکت، بات چیت اور ذہنی لہروں کی
نگرانی ہو سکے۔ یہ فیلڈز دنیا کے طریقہ کار کو بدل
چکے تھے — خیالات بھی اب ریکارڈ ہو سکتے تھے۔
حاجی صاحب کی حویلی، جو کراچی کے قریب ایک دیہات م
یں تھی، آخری باقیات میں سے ایک تھی۔ اس کا پوتا ع
رفان، ایک باغی طالب علم، لاہور یونیورسٹی میں فزک
س پڑھتا تھا۔ اس کی آوازیں — جو کوئی اور نہیں سن
سکتا تھا — اصل میں اس کے دماغ میں موجود قدیم "رو
حانی ریسوں" کی وجہ سے تھیں، جو فیلڈز کے ساتھ راب
طہ کر سکتے تھے۔
حکومت کے ایجنٹوں نے حویلی کو غیر قانونی "ذہنی مر
کز" قرار دیا۔ انہوں نے عمارت کو بند کرنے کا حکم
دیا اور تمام ریکارڈ ضبط کر لیے۔ عرفان نے واپسی پ
ر دیکھا کہ اس کی ماں کو حراست میں لے لیا گیا، بہ
ن کی شادی ایک فوجی افسر سے طے ہو چکی تھی، اور حو
یلی کا مرکزی صحن، جہاں بزرگوں کی قبریں تھیں، بند
ہو چکا تھا۔
عرفان نے راتوں کو تجربہ کیا۔ وہ فیلڈز میں داخل ہ
و سکتا تھا، لیکن صرف اس وقت جب اس کے دل کی دھڑکن
اور نفرت کی شدت ایک حد تک پہنچ جائے۔ اس نے اپنی
محبت (بچپن کی سہیلی، جو اب اس کی ممانعت کرتی تھ
ی) اور نفرت (حکومت، جبر، اس کے خاندان کی بے حسی)
کو استعمال کیا۔ دونوں جذبات اس کے دماغ کو فیلڈز
میں منتقل کرنے کی طاقت دیتے تھے۔
ایک شب، جب حکومت نے حویلی کو مسمار کرنے کا حکم د
یا، عرفان نے اپنے دل کی گھڑی (قدیم ایک مشین جو ب
زرگوں نے چھوڑی تھی) کو فعال کیا۔ یہ مشین، فیلڈز
کے خلاف کام کرتی تھی، لیکن صرف ایک بار استعمال ہ
و سکتی تھی۔ اس کے استعمال کا قانون تھا: ایک شخص
کو قربانی دینی پڑے گی۔
عرفان نے خود کو منتخب کیا۔ اس نے اپنی محبت (سہیل
ی کو آخری بار دیکھا، بغیر بولے) اور نفرت (حکومتی
ایجنٹ کو گھورا) کو یکجا کیا۔ اس کی دھڑکن بڑھی،
اس کا دماغ فیلڈ میں داخل ہوا۔ اس نے مشین کو چالو
کیا۔
حویلی کا مرکزی صحن پھٹ گیا۔ ایک نیا الیکٹرومیغنا
طیسی دائرہ تشکیل دیا، جس نے تمام وفاقی نگرانی کے
نظام کو معطل کر دیا۔ عرفان غائب ہو گیا۔ اس کی گ
ھڑی صحن کی مٹی میں دھنس گئی، چلتی رہی۔
اگلے دن، تمام نگرانی کے ٹاورز بند ہو گئے۔ لوگوں
نے اپنے ذہنوں میں آزادی محسوس کی۔ حویلی کا زوال
روک دیا گیا، لیکن وہ اب صرف ایک خاموش علامت تھی۔
عرفان کی قربانی نے دنیا کے عمل کو بدل دیا — اب
ذہنی آزادی ممکن تھی۔
مردانہ نظام، جس میں صرف طاقت اور فرمانبرداری چلت
ی تھی، اب چیلنج کے سامنے تھا۔ ایک باغی طالب علم
کی کہانی، جو محبت اور نفرت کے درمیان ٹوٹ گئی، نے
ایک نیا دور شروع کر دیا۔ حالات سنجیدہ رہے، لیکن
اب امید بھی موجود تھی۔


