1947 کے بعد کے ویران گاؤں، جہاں لوگ بھاگ چکے تھے
، اب 2047 میں ایک نئی تعمیر میں ہیں۔ حکومت نے "ذ
ہنی واپسی" کا منصوبہ شروع کیا: مردہ لوگوں کے DNA
سے ان کے نسل کے جسم بنا کر انہیں وسائل کے ساتھ
واپس بسایا جاتا ہے۔ یہ سائنس فکشن نظام صرف وارثو
ں کو ہی زندہ کرتا، باقی کو نظر انداز کرتا۔ جاگیر
دار کی اولاد کو زمین، طاقت، اور حویلی دوبارہ ملت
ی ہے۔ غریبوں کے بچے محض رجسٹر میں رہ جاتے ہیں۔
مردانہ، لاہور کا صحافی، جس کے والد ہجرت میں گم ہ
وئے، اس منصوبے کی رپورٹنگ کے لیے گاؤں آتا ہے۔ وہ
دیکھتا ہے کہ حویلی میں وہی پرانی طرز کی حکمرانی
ہے: کاشتکاروں کو قرضے دیے جاتے ہیں، ان کی بیٹیو
ں کو جبری شادیوں میں دیا جاتا ہے، اور فوجی گشت ا
ن کے خلاف کارروائی نہیں کرتا۔ نظام کا اصول یہ ہے
: "خون کا حق، زمین کا مالک"۔ یہ قانون
سائنسی ڈیٹ
ا بیس میں کوڈ ہے۔
وہ ایک لڑکی کا ریکارڈ دیکھتا ہے جس کی ماں ہجرت م
یں مر گئی تھی۔ لڑکی کو "ناقص نسل" قرار
دے کر نظا
م نے مسترد کر دیا۔ اس کی شادی جاگیردار کے دیوانہ
بیٹے سے کر دی گئی۔ مردانہ اس کی فائل پر کام کرت
ا ہے، لیکن اس کے فون میں موجود تمام ڈیٹا خود بخو
د مٹ جاتا ہے۔ سائنسی نظام میں "غیر مجاز رسا
ئی" ک
ا الگورتھم ہے جو تاریخ کو دوبارہ لکھتا ہے۔
وہ حویلی کی چھت پر چھپے ہوئے سرور تک پہنچتا ہے۔
وہ دیکھتا ہے کہ تمام دستاویزات میں اس کا نام بھی
مٹا دیا گیا ہے۔ اس کے والد کا ریکارڈ "غیر معروف
" ہو چکا۔ اس کا وجود اب ریاست کے نظام میں نہیں۔
اس لمحے اس کا ایمان ٹوٹتا ہے۔ وہ وہاں کھڑے ہو کر
اپنی جیب سے نکالی ہوئی قرآن کی چھوٹی کتابچی کو
زمین پر پھینک دیتا ہے۔
صبح کو گاؤں والے دیکھتے ہیں کہ حویلی کا دروازہ ک
ھلا ہوا ہے۔ اندر کوئی نہیں۔ جاگیردار کا بیٹا بے
ہوش دریائے چناب کے کنارے پایا جاتا ہے۔ مردانہ کا
کیمرہ، نوٹس، اور شناختی کارڈ دریا کی تہہ میں دھ
نسے ہوئے ہیں۔ سرکاری اطلاع میں کہا جاتا ہے کہ وہ
"ذہنی عدم استحکام" کا شکار ہو کر غائب ہوا۔
نظام کام کرتا رہتا ہے۔ اگلے مہینے، تین نئے "وارث
" زندہ کیے جاتے ہیں۔ انہیں زمین، گھوڑے، اور ہتھی
ار دیے جاتے ہیں۔ گاؤں کی مسجد میں امام خطبہ دیتے
ہیں کہ "اللہ نے خون کی پاکیزگی کو برقرار رکھا ہ
ے"۔ کوئی سوال نہیں کرتا۔


