1947 کے بعد، جب تقسیم ہند کے دھوئیں میں بے ہنگام

ہ تبدیلیاں ہو رہی تھیں، ایک عجیب سائنسی آ발 روشن

ہوا۔ اس آبال نے دو حصوں میں تقسیم ہونے والے ملک

کے ذہنوں کو ایک نئی حقیقت سے متعارف کروایا۔ اس س

ائنسی تبدیلی کے نتیجے میں، زمین کی ہر جگہ پر موج

ود قدرتی ذرائع اور مصنوعی طاقتیں مختلف بن گئیں۔

اس دور میں، ایک معروف خاندان کے امیر وارث، فخر ا

لدین، نے ایک قدیم صوفی خانقاہ کے اندر ایک غمگسار

اور حساس ماحول کا مشاہدہ کیا۔ اس خانقاہ کے اطرا

ف میں سیاسی سازشوں کی گہرائیوں کے اثرات محسوس ہو

رہے تھے۔

فخر الدین کے دادا، جو ایک قابل اعتماد شخصیت تھے،

اس خانقاہ کے ایک سربراہ تھے۔ لیکن ان کی موت کے

بعد، خانقاہ کا انتظام ایک غائب الطرف کے حوالے ہو

گیا۔ فخر الدین نے اس خانقاہ کے اطراف کے لوگوں ک

ے ذریعے اس غائب الطرف کی تلاш شروع کی۔ اس کے ذری

عے، وہ ایک نئی سائنسی دنیا کا اظہار کرنے والے ای

ک سیاسی گروہ کے خطرے کے بارے میں اطلاع حاصل کی۔

اس گروہ نے ایک نئی سائنسی توانائی کا استعمال کر

کے اپنے مقاصد کے لیے خانقاہ کو ایک اہم نقطہ بنان

ا چاہا۔

فخر الدین کی اس تحقیق کے دوران، اس نے ایک ایسی ت

وانائی کی ابتکاری کوشش کی جس سے اس خانقاہ کے اطر

اف کی دنیا میں ایک نئی سائنسی تبدیلی پیدا ہوئی۔

اس سائنسی تبدیلی نے اس کے ارد گرہ میں موجود تمام

افراد کے ذہنوں کو ایک نئی سوچ کے ساتھ متعارف کر

وایا۔ اس تبدیلی کے باعث، خانقاہ کے اطراف میں ایک

تناؤ پیدا ہوا، جس کا اثر تمام سیاسی اور مذہبی ج

ماعتوں پر ہوا۔

فخر الدین کی اس تحقیق کے نتیجے میں، اس خانقاہ کے

اطراف میں موجود ایک نئی سائنسی دنیا کا اظہار ہو

ا، جس کے نتیجے میں اس خانقاہ کی اصلیت اور اس کے

سیاسی مقاصد کا ایک واضح ترین منظر نما پیش کیا گی

ا۔ اس نے ایک تناؤ زدہ ماحول کے باوجود ایک نئی سا

ئنسی دنیا کے احیاء کا اعلان کیا۔ اس موقع پر، فخر

الدین نے اپنی سیاسی سازش کا راز دریافت کر لیا،

جو اس خانقاہ کی اصلیت کا ایک اہم جز تھا۔