لاہور کی پرانی حویلیوں میں سے ایک میں، بیوہ بیگم

نسرین، سترہ سال سے اپنے شوہر کی موت کے بعد تنہا

رہ رہی تھی۔ 1952 کی گرمیوں میں، ایک طوفانی بارش

کے بعد، حویلی کے صحن میں زمین دھنس گئی، اور تہ

خانے کا پرانا دروازہ کھل گیا، جسے چالیس سال سے ک

سی نے نہیں دیکھا تھا۔

تہ خانے میں سونے کے ساتّر سکے، برطانوی دور کے آخ

ری خزانے، اور ایک قدیمی رجسٹر ملے، جس میں لاہور

کی ستر حویلیوں کے نام تھے، جن میں خواتین کو جائی

داد کا حق دیا گیا تھا لیکن انہیں نافذ نہیں ہونے

دیا گیا۔ نسرین نے خزانے کو فروخت کیا، لیکن رقم ب

ینک میں نہیں رکھی، بلکہ اس نے "بی بی فاؤنڈی

شن" ب

نائی — ایک ایسا نظام جہاں کوئی عورت، بغیر مرد کی

اجازت کے، زمین خرید سکتی، رجسٹری کروا سکتی، اور

حویلی کا کاغذی مالک بن سکتی۔

اس عمل نے معاشرتی مردانہ ڈھانچے کو ہلا دیا۔ محلے

کے سردار، جج، اور قاضیوں نے اسے "غیر شرعی&q

uot; قرار

دیا، لیکن نسرین نے فقہ حنفی کے قدیم فتویٰ کا حو

الہ دیا، جس میں عورت کی ملکیت کا حق واضح تھا۔ وہ

ہر رجسٹراری میں خود جاتی، کاغذات جمع کراتی، اور

سرعام مہر ثبت کراتی۔ پہلے ماہ میں، سات عورتیں،

جن میں بیوہ، طلاق یافتہ، اور یتیم لڑکیاں شامل تھ

یں، حویلی کی مالک بن گئیں۔

ایک شب، جب چار مرد نے فاؤنڈیشن کے دفتر کو جلانے

کی کوشش کی، نسرین نے دروازہ کھولا اور انہیں اندر

بلایا۔ انہیں سونے کے سکوں سے بھری ایک تھالی دی،

اور کہا کہ اگر وہ چاہیں تو یہ سب لے جا سکتے ہیں

، لیکن صرف اس شرط پر کہ وہ اپنی بیٹیوں کو بھی ای

ک چھوٹی سی زمین دیں۔ تین واپس لوٹ گئے، ایک رہ گی

ا، اور اگلے دن اپنی بیٹی کی رجسٹری کروانے آیا۔

نئی دولت نے صرف رقم نہیں بدلی، بلکہ لاہور کی زمی

نی قانونی تقسیم کو ہی تبدیل کر دیا۔ محکمہ اراضی

نے غیر سرکاری طور پر نئے فارم متعارف کروائے، جن

میں "مرد کی ضمانت" کی جگہ "خاتون

کی دستخط" کافی

تھی۔ یہ تبدیلی صرف لاہور تک محدود نہ رہی؛ راولپن

ڈی، سیالکوٹ، اور حیدرآباد کی عورتیں خطوط بھیجنے

لگیں۔

نسرین کی آخری حرکت تھی کہ اس نے اپنی حویلی کو "ع

ورتوں کی جامع مسجد" میں بدل دیا — نماز کے لیے نہ

یں، بلکہ فیصلہ کرنے کے لیے۔ ہر ہفتے، مختلف عورتی

ں وہاں جمع ہوتیں، جائیداد، طلاق، یا وراثت کے معا

ملات پر مشورہ کرتیں، اور فیصلہ کرتیں، بغیر کسی م

رد کے دخل کے۔

جب اس کی موت ہوئی، تو اس کے جنازے میں سترہ حویلی

وں کی مالک عورتیں پیش نماز تھیں۔ اس کی کتاب، جس

میں ہر رجسٹری کی تفصیل تھی، بعد میں پنجاب یونیور

سٹی میں "نسرین کوڈ" کے نام سے محفوظ کی گئی۔

دنیا کے نظام میں، عورت کی ملکیت کا حق ہمیشہ سے م

وجود تھا، لیکن اس کی تفسیر مردوں نے کی تھی۔ نسری

ن نے اس تفسیر کو توڑ دیا۔ اب لاہور کی ہر حویلی ک

ی دیوار پر، ایک نیا قانون درج ہے: "مالک وہ ہے جو

کاغذ پر دستخط کرے، نہ کہ وہ جو تلوار اٹھائے۔"