دھوپ میں چمکتی ہوئی چاندنی کے گرد ہوا ہلکی ہوگئی

۔ لالہ کے گھر کے دروازے پر سبز چادر چمک رہی تھی۔

اس کے بابا نے چند دن قبل ہی چودھری سے منگنی کا

اعلان کردیا تھا۔ لالہ کو پتا چلا کہ اس کی شادی ا

یک بڑے قبیلے کے لڑکے سے ہونے والی ہے۔ اس کی دھوپ

میں ہلکی ہوئی ہوا میں خوف کا ہوا کا گولہ گھوم ر

ہا تھا۔

اگست کی گرمی میں چودھری کے گھر کے چھت پر بیٹھ کر

لالہ نے اپنی گلی کی چند ہی لکیریں دیکھیں۔ ہر گل

ی کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا چھوٹا سا گھر تھا۔

اس گھر کے باہر ہمیشہ چھوٹے چھوٹے بچے بھوکے بیٹھ

ے رہتے تھے۔ لالہ نے سوچا کہ اس گھر کے ایک لڑکے ک

ے ساتھ اس کا رشتہ بھی طے ہوچکا ہے۔

چودھری کے گھر کے اندر ایک بڑا چھوٹا سا ماحول تھا

۔ ہر کمرے میں ایک نظر آنے والی دیوار تھی۔ لالہ ک

و یہ یاد آیا کہ اس کی ماں نے کہا تھا کہ اگر اس ک

ی شادی چودھری کے گھر میں ہوگئی تو اس کا قبیلہ ای

ک نئی طاقت بن جائے گا۔

ایک دن لالہ نے گھر سے فرار کرلیا۔ گلی کے ایک چھو

ٹے سے گھر میں چھپ گئی۔ وہاں ایک لڑکا تھا جو اس ک

ے قبیلے سے تھا۔ وہ اس کے ساتھ بات کرنے لگا۔ لالہ

نے اس کے ہاتھ پکڑ کر کہا کہ اس کی شادی اس کے سا

تھ نہیں ہوگی۔

چودھری کے گھر کے چھت پر ہوا کا ہوا گولہ ہلکا ہوگ

یا۔ لالہ کے گھر کے دروازے پر سبز چادر کی جگہ سیا

ہ چادر چمک رہی تھی۔ اس کے بابا نے اپنی بیٹی کو گ

ھر سے باہر نکال دیا۔ لالہ کو اس کے قبیلے سے دور

ہونے کا احساس ہوا۔

اگست کی گرمی میں لالہ کے گھر کے چھت پر بیٹھ کر ا

س نے چودھری کے گھر کی طرف دیکھا۔ وہاں ایک چھوٹا

سا گھر تھا۔ اس گھر کے باہر ہمیشہ چھوٹے چھوٹے بچے

بھوکے بیٹھے رہتے تھے۔ لالہ نے سوچا کہ اس گھر کے

ایک لڑکے کے ساتھ اس کا رشتہ بھی طے ہوچکا ہے۔