1947 کی تقسیم کے بعد، لاہور کے ایک قدیم علاقے می
ں ایک چھوٹا خاندان رہتا ہے۔ خاندان کا سربراہ، عل
امہ حسن، ایک بزرگ مذہبی پیشوا ہے۔ اس کی والدہ کی
وفات کے بعد، اس کے ہاتھ میں ایک پرانا قبرستان ک
ی نقشہ اور ایک چھوٹا لکڑی کا ڈبّا چلا آتا ہے۔ ڈب
ّے میں ایک دستاویز ہے جس میں ایک پراسرار وراثت ک
ا ذکر ہے، جس کا اصل ایک فرنگی ڈاکٹر کے ہاتھوں سے
اس خاندان تک پہنچا ہے۔
عمران، علامہ حسن کا بیٹا، اس دستاویز کی تحقیق شر
وع کرتا ہے۔ وہ ڈاکٹر کی سرحد پار کی ہوئی زمینوں
کے نقشے کی تلاش میں ملتان سے کراچی تک سفر کرتا ہ
ے۔ اس دوران، اس کے ساتھ ایک خاتون، نور، ملتی ہے،
جس کا خاندان بھی تقسیم کے وقت میں مجبور ہو کر س
رحد پار ہو گیا تھا۔
سرحد پار جانے کے دوران، عمران کو یہ دریافت ہوتا
ہے کہ وہ دستاویز، ایک ہندوستانی روح کے ساتھ منسل
ک ہے، جس کے لیے اس خاندان کے قدیم گھر کے ایک کمر
ے میں ایک سرکاری دستاویز موجود ہے۔ اس دستاویز کے
نتیجے میں، عمران کے خاندان کے احترام اور عزت کا
مسئلہ اٹھ جاتا ہے۔
نور کے خاندان کے لوگ، اس دستاویز کو دیکھ کر ان ک
ے خاندان کے احترام کے لیے ایک معاہدہ کرنے کے لیے
آتے ہیں۔ اس موقع پر، عمران کو اپنی ہی فیملی کے
لوگوں سے جبری شادی کی پیشکش کی جاتی ہے۔ وہ تناؤ
زدہ حالات میں اپنی اخلاقی اور نفسیاتی تابعداری ک
ے لیے ایک انتہائی مشکل فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔
تقسیم کے دوران، اس خاندان کے ایک فرد کی طرف سے ا
یک غلط فیصلہ اس کی فیملی کی وراثت کے لیے ایک پرا
سرار راز بن گیا ہے۔ عمران کو اس راز کو سمجھنے کے
لیے ایک قدیم حویلی کے ایک کمرے میں داخل ہونا پڑ
تا ہے۔ وہاں ایک قبر کے نیچے، ایک اور دستاویز مل
جاتا ہے، جو اس کے باپ کے اصل تعلقات کا اعتراف کر
تا ہے۔
آخرکار، عمران اپنی فیملی کے احترام کی حفاظت کے ل
یے ایک انتہائی مشکل فیصلہ کر کے اس پراسرار وراثت
کو اس کے خاندان کے ساتھ شیئر کر دیتا ہے۔ اس عمل
سے، اس کے خاندان کی ایک لمبی مدت کی گمنامی اور
تناؤ کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔


