1947 کے بعد کے پاکستان میں، سرحدی علاقوں کے اندر

بڑے بڑے گاؤں نامعلوم سرحدوں پر پھنسے رہتے ہیں۔

مردانہ، ایک سینئر سمگلر، چار دہائیوں سے لالاکوٹ

کے قریب ایک حواlee میں رہتا ہے۔ اس کی زندگی کا ہ

ر لمحہ اس وقت کی سیاسی فضا کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ا

س کے والد نے 1950 کی دہائی میں ایک اہم سیاسی شخص

یت کو قتل کیا تھا، جس کے باعث اس کے گھر پر بے گن

اہ لوگوں کی ہجومی پیش کش ہوئی۔ اس نے اپنی جان بچ

انے کے لیے سمگلنگ کا راستہ اختیار کیا۔

1965 کے پاکINDO جنگ کے دوران، مردانہ ایک ایسی فو

جی کمانڈ کے ساتھ ملتا ہے جو اس کے گھر کے خلاف چھ

اپہ مارنے والی ہے۔ اس کی بیوی، جو ایک ہجرت کر کے

آئی ہوئی ہے، اس سے بے وفا ہو کر گھر چھوڑ کر چلی

گئی ہے۔ اس کی بیٹی، 17 سال کی، اس کے ساتھ رہتی

ہے، لیکن اس کے خون کی شکل میں ہر روز اس کی جان ک

و دھمکی دیتی ہے۔

ایک دن، اس کی گاڑی میں ایک نوجوان لڑکا سوار ہوتا

ہے۔ اس کی ہیڈ کا سرخ ہنگامہ اس کے ذہن میں ایک ق

دیم تنازع کو تازہ کرتا ہے۔ اس نوجوان کا نام ہے ع

ثمان، اور وہ اسی سیاسی قتل کے مقدمے میں شامل ہے

جو مردانہ کے والد کے ذمے تھا۔ اس نے اپنے والد کو

قتل کرنے کے ذمے دار ہونے کے باوجود اپنے گھر سے

بھاگ کر اس کے ساتھ سفر کیا۔

مردانہ کو ایک قانونی نوٹس مل جاتا ہے۔ اس کے گھر

کے قریب ایک نیا قتل ہوا ہے، جس کا ذمہ دار اسے بت

ایا جاتا ہے۔ اس کی بیٹی کو اس قتل کی وجہ سے ایک

جبری شادی کا شکار ہونے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ اس ک

ے پاس صرف ایک راستہ ہے: اپنی زندگی کے آخری لمحے

میں اس سرحد کے اندر ہی سچائی کھولنا۔

آخری رات، اس نے عثمان کے ساتھ ایک ہنگامہ کر دیا۔

اس کے والد کے قتل کا سچ آچکا ہے۔ اس نے اپنی بیٹ

ی کو جبری شادی سے بچانے کے لیے اپنی زندگی کو اس

ہنگامہ میں جوڑ دیا۔ اس کے گھر کی ہر چیز، ہر کتاب

، ہر تصویر، اس کے ماضی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اس ک

ی موت نے اس کے گھر کو ایک فلسفیانہ سرحد پر پھنسا

دیا۔

اس کے گھر کی جگہ اب ایک نئی حواlee بن جاتی ہے۔ ا

س کی بیٹی کو ایک نیا راستہ مل جاتا ہے۔ اور سرحد

کے اندر ایک نئی تحریک شروع ہو جاتی ہے۔