1947 کی آزادی کے بعد لاہور کے سرحدی علاقے میں ای

ک ہوائے لکڑی کے سامنے خالی ہوائے بستی تھی، جہاں

ایک صفتی سید چودھری کی حویلی نے دس سال بعد بھی ز

ندہ دل اٹھائی تھی۔ اس حوالے کے تحت سیاسی تاثیر ک

ا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا — لیکن ہر ہری دین کے اول

مہینے کے آخری دن، ہوائے میں ایک ڈوبتا ہوا چراغ

روشن ہوتا تھا، جس کی دھوئیں کوئی مندروں سے نہیں

آتی تھی، بلکہ ہر ایک قومی سادہ ریلیف کے وقت کے ن

شان کے طور پر ہوتی تھی۔

سیاستدان کا بیٹا، جس کا نام شہاب تھا، نے ہوائے ک

ے پرانے گھر میں اپنی ماں کے گلے میں چھوٹی سی چاد

ر باندھی، جس پر "حاجی بخش" لکھا ہوا تھ

ا — یہ ایک

جاگیردارانہ سلطنت کا علامتی تخت تھا، جو 1952 می

ں ہی ایک نامعلوم تقریر کے بعد گر گیا تھا۔ مگر اس

دن، جب شہاب نے دیواروں کے درمیان ہری دین کی تقر

یر کا کاسٹ ہارمونک ریکارڈ چلایا، تو ہوائے میں ای

ک ہلکا سا دھماکہ ہوا، جس نے تمام خاندانی اجازتوں

کو الٹ دیا۔

آج کا ہر سالانہ چراغ جلانے کا رسم 1948 کے بعد سے

بند تھا — لیکن اس ہوائے میں، جہاں ایک جاگیردار

کی بیٹی کو 1949 میں غیرقانونی طور پر دوسری شادی

کے لیے کھینچا گیا تھا، اس دن چراغ نے خود بخود رو

شن ہونا شروع کردیا، اور اس کے نیچے ایک کمرے میں،

جہاں 1953 کے خلاف بغاوت کے بعد سید چودھری کے بی

ٹے کو چھیڑا گیا تھا، وہاں ایک چھوٹی سی ڈائری ظاہ

ر ہوئی، جس میں لکھا تھا: "ہری دین کا بیٹا، آج کا

دن ہے — وہیں جو تمہیں کھیلنے دیتا ہے، اسے تم نہ

یں چھوڑ سکتے۔"

جب شہاب نے ڈائری کے آخری صفحے کو ہاتھ سے چھوا، ت

و ہوائے کے چھوٹے کمرے کے دوسرے کونے میں ایک چراغ

نے اپنے ہی دھوئیں کو آگے بڑھایا، اور اس دھوئیں

میں ایک تصویر ظاہر ہوئی — ایک چودھری کا بیٹا، جس

کے ہاتھ میں ہری دین کا ایک چراغ تھا، اور اس کے

سامنے دو قبائلی لیڈرز، ایک کے ہاتھ میں چھری، دوس

رے میں چھوٹا سا چراغ، جو دونوں ایک ہی دن میں گر

گئے تھے۔

انہوں نے ایک ہی دن چراغ جلانے کا وعدہ کیا تھا —

لیکن ہری دین کے چراغ نے صرف ایک ہی راستہ دکھایا۔

شہاب نے ڈائری کو اٹھا کر چراغ کے سامنے رکھ دیا،

اور ہوائے کے دوسرے کونے میں جو ہری دین کا ایک پر

انا چراغ تھا، اس کے دھوئیں میں اب ایک نیا چراغ ج

لنے لگا — اس کے نیچے، ایک نیا نام لکھا ہوا تھا:

"شہاب — 1965"۔

ہوائے کی ہر دیوار میں چراغ جلنے لگے، اور ہر چراغ

کے نیچے ایک نام تھا — لیکن ہر نام کے ساتھ ایک ہ

ی دھوئیں کی روش، جو 1947 کے بعد سے بند ہو گئی تھ

ی، اب واپس آگئی تھی۔

کچھ لوگوں نے ہوائے کے اندر آوازیں سنیں — جیسے کو

ئی ہنس رہا ہو، جبکہ دوسرے نے سمجھا کہ یہ کوئی جا

گیردارانہ حقیقت ہے جس کو دوبارہ جیتے ہوئے دیکھا

جا رہا ہے۔

مگر شہاب کے ہاتھ میں چراغ تھا — اور وہ ہنستا ہوا

چلا گیا، ہوائے کے باہر، جہاں 1965 کی سیاست کے ب

ارے میں کوئی کتاب نہیں ہے، لیکن ہری دین کا چراغ

اب ہر سال ہوائے میں جلتا ہے — اور ہر سال، ایک نی

ا نام اس کے سامنے رکھا جاتا ہے۔