1947 کے خون آلود سالوں کے بعد، کراچی کے ایک عمار

ت کے اندر جبری شادی کے ذمہ دار ایک فوجی افسر پھن

س گیا۔ اس کا نام لیفٹیننٹ عثمان تھا، جس کی ماں ن

ے اسے اپنی بیٹی کے ساتھ شادی کرنے کا فیصلہ کیا ت

ھا۔ اس کی بیٹی کی عمر 15 سال تھی، اور وہ اس وقت

لاہور میں رہائش پذیر تھی۔

عثمان نے فوجی خدمات کے دوران اپنی زندگی کو ڈھال

لیا تھا، لیکن تقسیم کے بعد اس کے دل میں ایک چھڑک

ا ہوا غم رہا۔ وہ اپنی والدہ کے احکامات پر عمل کر

نے سے انکار کر دیتا ہے، لیکن اس کی گھر کی حالت ا

س کے لئے قابل قبول نہیں تھی۔ اس کی بیٹی کی شادی

ہونے کی خبر سے اس کے دل میں ایک درد پیدا ہوتا ہے

۔

اس کی بیٹی کی پیروی کے لئے عثمان کراچی سے لاہور

جاتا ہے، لیکن وہاں وہ اپنی بیٹی کی شادی کے خلاف

جدوجہد کرتا ہے۔ اس کی بیٹی نے اپنے باپ کے خلاف ج

ب کبھی بھی گفتگو کی تو اس کے لئے یہ ایک بڑا چیلن

ج بن گیا۔

فوجی افسر کی زندگی میں ایک اور اہم پیشہ اس کے دل

میں ایک نئی امید پیدا کرتا ہے۔ وہ اپنی بیٹی کی

شادی کو روکنے کیلئے اپنے تمام طاقت کا استعمال کر

تا ہے۔

تقسیم کے بعد کی ایک دلخراش ہوائی لڑائی میں اس کی

گرفتاری ہو جاتی ہے۔ اس کی گرفتاری اس کے لئے ایک

امید کی نشانی بن جاتی ہے۔ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ

ایک نیا آغاز کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

عثمان کی گرفتاری اس کے لئے ایک چیلنج تھا، لیکن و

ہ اس کے باوجود اپنی بیٹی کی شادی کو روکنے کی کوش

ش کرتا رہتا ہے۔ اس کی جدوجہد کے آخر میں اس کی بی

ٹی اس کے ساتھ ایک نیا آغاز کرتی ہے۔

عثمان کی جدوجہد کے آخر میں، اس کی بیٹی نے اپنی ش

ادی کو منسوخ کر دیا۔ اس کے دل میں ایک نئی امید پ

یدا ہو جاتی ہے۔ وہ اپنی زندگی کی ایک نئی صفحہ کھ

ولنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔