1947 کے تقسیم ہند کے بعد، پنجاب کے ایک دیہات میں
رہنے والے غریب مزدور عثمان نے شہر کی طرف رخ کیا
۔ وہ اپنے بھائی کی شادی کے موقع پر اپنی ماں کو ب
چانے کے لیے گھر سے بھاگ گیا۔ اس کے باپ، جو رویہ
کی فیکٹری میں مزدور تھا، اسے دیہات سے نکالنے کے
لیے کسی اور کے ساتھ ایک بے ہوشی کے سودا کر رہا ت
ھا۔
عثمان نے کراچی پہنچ کر ایک بنکار کی دکان پر کام
شروع کیا۔ وہ چند دنوں میں ہی ایک دوسرے مزدور کی
حالت دیکھ کر خوف میں ڈوب گیا۔ وہ آدمی کرپٹ نظام
کے ذریعے دباؤ کے تحت کام کر رہا تھا۔ اس کی بیوی
کو دوبارہ شادی کرنے کے لیے ایک غیر قانونی فیصلہ
لازم ہوا۔
بنکار نے عثمان کو ایک نئی ملازمت کے لیے دباؤ دیا
، جو اس کے لیے ایک ہی راستہ تھا۔ لیکن اس کام کی
شرائط اس کی بیوی کے لیے معاذور ہونے کا مطلب تھا۔
عثمان نے اپنی بیوی کو بچانے کے لیے ایک ہتھکডی ک
ی پیشکش کی۔
ایک دن، بنکار کی دکان پر ایک ہجوم اٹھ گیا۔ اس ہج
وم میں ایک غریب مزدور کی انتہائی مصیبت کی وجہ سے
کرپٹ نظام کے خلاف احتجاج ہوا۔ عثمان نے اس وقت ا
یک فیصلہ کیا، جو اس کی زندگی کی آخری لڑائی تھی۔
اس نے بنکار کو ایک ہتھکڈی میں پھنسا دیا۔
اس واقعے کے بعد، عثمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ لیک
ن اس کے احتجاج نے دیہات سے شہر کی طرف کرپٹ نظام
کی کمزوری کو ظاہر کیا۔ اس کے ساتھ ہی، اس کی بیوی
کو ایک نئی زندگی کا موقع ملا۔
عثمان کی ہتھکڈی نے دیہات سے شہر کی طرف ایک غریب
مزدور کے لیے ایک سنجیدہ تبدیلی کی گواہی دی۔


