لاہور کے محلہ حیات آباد میں 1963 کی گرمی نے لوگو
ں کو گھروں میں مقید کر دیا۔ سرکاری رشتوں کی حویل
ی، جہاں مردانہ کا نظام صدیوں سے چل رہا تھا، اب خ
رابی کی طرف جھک رہا تھا۔ ہر خاندان کا بڑا بیٹا ہ
ی فیصلہ کرتا تھا، باقی خاموش رہتے تھے۔ یہ روایت
نہ صرف رشتے بلکہ زمین، شادی، اور عزت کے معاملات
میں حتمی قانون تھی۔
ایوب خان کے اقتدار کے دور میں نئی قانونی عمارت ا
بھر رہی تھی، مگر حیات آباد میں پرانی دیواریں گرن
ے کو تیار نہ تھیں۔ سیاستدان حکیم علی خان کا بیٹا
عامر، لاہور یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے واپس
آیا۔ اس کے ذہن میں جدت کی ہوا تھی، مگر گھر میں ا
س کی آواز صرف اس وقت سنی گئی جب وہ "مردانہ&
quot; کی ت
قریب میں بزرگوں کے ساتھ بیٹھا۔
جوڑے دن بعد، محلے کی ایک لڑکی، صفیہ، کو 70 سالہ
سردار غفار خان کے ساتھ جبری شادی پر مجبور کیا گی
ا۔ وہ اس کے دادا کے دوست تھے، اور "عزت کے ت
حفظ"
کے نام پر یہ شادی منعقد ہونی تھی۔ عامر نے اندر ہ
ی اندر محسوس کیا کہ اگر اب نہ اٹھا تو عزت صرف نا
م کی چیز رہ جائے گی۔
رات کو، عامر نے اپنے والد کے کمرے میں دروازہ کھو
لا۔ اس نے ان کی البتہ نہیں، بلکہ ان کے سامنے رکھ
ی ہوئی سرکاری فائل دیکھی — وہی فائل جس میں سردار
غفار کے خلاف زمین کے جھگڑے کے ثبوت تھے، مگر معا
ملہ دب چکا تھا۔ صبح، عامر نے تمام گواہوں کو اکٹھ
ا کیا اور پولیس اسٹیشن جانے کا اعلان کیا۔
محلے میں ہلچل مچ گئی۔ بزرگوں نے اسے "روایت توڑنے
" کا موردِ لعنت قرار دیا۔ ایک رات، اس کے گھر کی
دیوار پر لکھا گیا: "جو مردانہ توڑے، مرد نہیں رہت
ا۔" قانون کا اطلاق صرف اس وقت ہوتا جب مردانہ خام
وش ہو۔ عامر کے قدم اس کے بازو سے زیادہ مضبوط تھے
۔
صبح ساڑھے نو بجے، وہ پولیس اسٹیشن پہنچا۔ اس کے س
اتھ صرف تین خاندان تھے، باقی خاموش رہے۔ ایس ایچ
او نے معاملہ درج کیا، مگر کہا: "عدالت میں فیصلہ
ہوگا۔" مگر اسی دن، سردار غفار کی حویلی خالی ہو گ
ئی۔ وہ اگلے ہی دن کراچی روانہ ہو گیا۔ صفیہ کو گھ
ر واپس لایا گیا۔
عامر کو حویلی میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی گئی۔
اس کے والد نے دروازہ بند کر دیا۔ اگلے ہفتے، حکیم
علی خان نے اعلان کیا کہ وہ عامر کو اپنا وارث نہ
یں مانتے۔ مگر حیات آباد میں اب ایک نیا قاعدہ بن
چکا تھا: عزت صرف جبر سے نہیں، بلکہ آواز سے بچتی
ہے۔
دو ماہ بعد، حیات آباد کی پہلی خواتین کمیٹی قائم
ہوئی۔ عامر لاہور یونیورسٹی میں تدریس شروع کر چکا
تھا۔ ایک شام، اس نے اپنے کمرے میں ایک خط پایا —
بغیر دستخط، صرف ایک لائن: "تم نے عزت بچا لی، مگ
ر دل ٹوٹ گیا۔"
بارش کے دن، عامر نے اپنی کتابوں کو گاڑی میں رکھا
۔ اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ حیات آباد کی گلی
وں میں اب بھی مردانہ کی دھمکی تھی، مگر اب ایک نئ
ی آواز بھی گونج رہی تھی۔


