ایکشن، مہم جوئی، سائنس فکشن اور مزید — روزانہ نئی کہانیاں
تقسیم کے دھوئیں میں جاگیردار
ایک بے گناہ خاتون اپنے پرستار جاگیردار کے ظلم سے نجات ت لاш کرتی ہے، جبکہ تقسیم کے درد نے ملک کو ٹوٹ کر رکھ دیا ۔
گاؤں کا نمبردار اور قبیلے کا مزاح
1948 کے موسمِ سرما میں، ایک نمبردار کو دو گاؤں کے درمیا ن زمین کے تنازعے پر فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ جھوٹی شہرت، بکر یوں کی چوری، اور ایک بوڑھے کتے کے خلاف مقدمہ عدالتی نظا م کو ہنسی کا نشانہ بنا دیتا ہے۔ فیصلہ سننے کے بعد پورا علاقہ رسمی دعوت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
ویران حویلی کا راز
ایک بیرون ملک مقیم لڑکی واپس آتی ہے، غیر ملکی دلہن بن ک ر ایک تاریخی حویلی میں قدم رکھتی ہے جہاں خاموش محبت اور مردانہ روایات کے درمیان ایک راز کھلتا ہے۔
سیاہ مٹی کا فیصلہ
1948 کے سرد سرائے میں، ایک جج نے زمین کے تنازع پر فیصلہ سنایا جس نے نہ صرف خاندانی چولہے بجھا دیے بلکہ عدلیہ ک ے اندر کرپشن کی دیواریں گرا دیں۔ ایک مردانہ نظام نے انص اف کو مسخ کر دیا۔
سائے میں دفن
ایک بےگھر فقیر لڑکا، جو 1947 کی تقسیم میں اپنے خاندان ک و کھو بیٹھا، وہ ایک رئیس خاندان کے گھر میں نوکر بن کر ر ہتا ہے۔ جب اس کی غیرت کو ایک قرض کے نام پر تباہ کیا جات ا ہے، تو وہ خاموشی سے انتقام کی ایک ایسی دنیا بنا لیتا ہے جہاں عزت زندہ لاش بن جاتی ہے۔
سوچے ہوئے راستے
ایک دیہاتی لڑکی کا سفر، جس نے پرانی حویلیوں کے بیچ سے گ زرنا تھا، اور ایک سیاسی سازش کے اندر سے اپنی زندگی بچان ی تھی۔ راستہ صرف سمگلنگ کا نہیں، بلکہ خاندانی غیرت، تقس یم ہند کے ذہنی مٹی کے نشانات کا بھی تھا۔
غیرت کے چھاپے میں
ایک گینگ لیڈر کو اپنے خاندان کی غیرت کے قتل کے سیاسی قت ل کے پیچیدہ جال میں دبا دیا جاتا ہے، جبکہ تقسیم ہند کے تاریخی عالم میں نئی ریاست کی بنیاد پر قانون کا بوسہ لین ا ایک ہی سوال بن جاتا ہے۔
سائے میں برسا سرحدی خون
ایک سمگلر، جو تقسیم ہند کے زخم اٹھائے زندہ رہتا ہے، سرح د کے نئے قوانین میں پھنس جاتا ہے۔ قرض کی موت کی طرح سای ہ ڈالتا ہے، اور ایک ایسا فیصلہ کرتا ہے جو نہ صرف اس کی جان لیتا ہے بلکہ سرحد کے عمل کو ہمیشہ کے لیے بدلا دیتا ہے۔
غیب کا داغ
ایک صحافی اپنے گاؤں کی دیہاتی زندگی کو تبدیل کرنے کی کو شش کرتا ہے لیکن تاریخی فتنے اور فلسفیانہ سوالات اسے مجب ور کر دیتے ہیں۔
دل کی گواہی
ایک گاؤں کے نمبردار کو اپنی دل کی محبت کے ساتھ مافیا را ج کے خطرے سے لڑنا پڑتا ہے، جبکہ تقسیم ہند کے تاریخی حال ات اس کے آگے راستہ روکتے ہیں۔
چولہا جلانے والی لکڑی
1948 کے سرد سرائے میں، ایک بیوہ عورت نے جاگیردار کے خلا ف چولہے کی آنچ بھڑکائی۔ تقسیم کے زخم پر، روایت کی دیوار یں ٹوٹیں، اور عزت کا مطلب بدل گیا۔
آخری وصیت کا غریب مزدور
1947 کے بعد کے دنوں میں، ایک غریب مزدور کو ایک مردہ سرد ار کی آخری وصیت پہنچتی ہے جو اس کی زندگی بدل دیتی ہے۔ ت قسیم کے زخم ابھی تازہ ہیں، اور ایک حویلی کے اندر چھپی غ یرت کا قتل نئی نسل کے خون میں جنم لیتا ہے۔ رومان کی شکل میں آنے والی موت نے صرف ایک جسم کو نہیں، بلکہ پورے خان دان کے وجود کو مٹانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔




