1947 کی گرمی میں، تقسیم کے جلتے میدانوں سے بھاگ
کر ایک بچی اور اس کی ماں لاہور کے باہر ایک ویران
حویلی میں پناہ لیتی ہیں۔ حویلی کا مالک، صوفی بز
رگ حضرت مودود، لوگوں کو نہیں دیکھتا، مگر ان کی س
انسیں سن لیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر نفس میں وزن
ہوتا ہے — ایمان، جرم، جھوٹ، محبت — اور وہ وزن ہو
ا میں جمع ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی سائنس فکشن کا قا
نون: سانس اب صرف زندگی نہیں، بلکہ سماجی معیار بن
گیا۔ جس کی سانس بھاری، اسے عزت؛ جس کی ہلکی، اسے
نظرانداز۔
بچی، زَرّیں، برسوں تک حویلی میں پروان چڑھتی ہے۔
اس کی سانسیں ہلکی رہتی ہیں — نہ کبھی جھوٹ بولتی،
نہ کسی پر چغلی، نہ کبھی غصہ۔ مگر جب وہ بالغ ہوت
ی ہے، محلے کے سردار کا بیٹا اس کی طرف منہ موڑتا
ہے۔ اس کی ماں مرتی ہے، اور زرّیں بے سہارا رہ جات
ی ہے۔ حویلی کے دروازے بند ہو جاتے ہیں — صوفی بزر
گ کا فیصلہ آتا ہے: "تمہاری سانس اتنی ہلکی ہے کہ
شادی کے لائق نہیں"۔
یہی جبری شادی کا نقطہ ہے — نہ تو اسے اختیار دیا
جاتا ہے، نہ ہی انکار کی اجازت۔ قانون کہتا ہے: "ج
س کی سانس 80 گرام سے کم، وہ شادی نامہ پر دستخط ن
ہیں کر سکتا"۔ زرّیں کا وزن 62 گرام ہے۔ اس کی زند
گی کا واحد راستہ یا تو مر جانا، یا سانس بھاری کر
نا — جھوٹ بول کر، نفرت جمع کر کے، دشمنی کی ہوا م
یں سانس لے کر۔
وہ انکار کر دیتی ہے — شادی سے نہیں، بلکہ سانس بھ
اری کرنے سے۔ وہ حویلی کی چھت پر چڑھ جاتی ہے، جہا
ں ہوا سب سے صاف ہوتی ہے۔ وہ اپنی آخری سانسیں وہا
ں چھوڑتی ہے — ہلکی، پاک، بے خود۔ صوفی بزرگ اس کی
طرف دیکھتا ہے، مگر کچھ نہیں کہتا۔ اس کا نظام، ا
س کا قانون، اس کی دنیا — سب اس ایک ہلکی سانس کے
سامنے ٹوٹ جاتے ہیں۔
صبح ہوتی ہے۔ حویلی کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ ہوا
میں ایک نیا وزن ہے — نہ ایمان کا، نہ گناہ کا، بل
کہ غم کا۔ ہر کوئی سانس لیتا ہے، مگر اب کوئی سانس
نہیں تولتا۔ صوفی بزرگ کا مندر خالی ہے۔ اس کا قا
نون مر گیا۔ زرّیں کی ہلکی سانس نے دنیا کا طریقہ
بدل دیا۔
ایک بچی کی موت نے ثابت کیا: بعض اوقات، سب سے ہلک
ی چیز دنیا کو الٹ دیتی ہے۔


