1952ء کی بجلی کے قابو سے باہر ایک ہسپتال کے نیچے
، لاہور کے پرانے حویلی کے گرد ایک سائنس فکشن نظا
م چلا جس نے سماج کو ایک نئے طرز میں تبدیل کر دیا
: تمام خواتین کو زنانہ نامی ایک الیکٹرانک چینل پ
ر "فریق" کی حیثیت سے ریمٹ کیا جاتا تھا
، جہاں ان
کی صحت، اخلاق، اور اوقات کی نگرانی ہوتی۔ یہ سسٹم
صدیوں پرانی ہزاروں گھروں کے اصولوں کو ڈھانچے کے
اندر دفن کرتا تھا — گھر والوں کو تنہا نہیں چھوڑ
تا تھا، بلکہ سب کو ہر چیز میں 'راستہ'
دکھاتا تھا
۔
1963ء، چار ماہ قبل، چینل کے مرکزی ڈیٹا سینٹر کے
ایک نیچے کمرے میں، حویلی کی بوڑھی عورت کی تحویل
میں رکھا گیا ایک ایکسیس کوڈ ناکافی تھا۔ وہ کہتی
تھی کہ اسے "غیرت کا قتل" نہیں کرنا چاہ
یے، لیکن چ
ینل نے اس کے بیان کو ناکام قرار دیا — کیونکہ سسٹ
م کے لیے غیرت کا معنی صرف "آئی ڈی کی توثیق&
quot; تھا،
اور اس کا تعلق دوسرے لوگوں سے نہیں، بلکہ اپنی ت
صدیق سے تھا۔
اُسی رات، ایک سابق چینل اسسٹنٹ نے دروازہ توڑا —
وہی شخص جس کی والدہ کو 1947ء میں چینل کے ڈیٹا ہو
لڈر نے "میزان" میں نہ دیکھا تھا، اور ج
سے سمجھا گ
یا تھا کہ وہ ہی ایک خاندان کی غیرت کو ختم کر گیا
تھا۔ اس کا وجود تقریباً منسوخ ہو چکا تھا، لیکن
اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا سرکٹ تھا جسے "ریورس
ڈی ایف" کہا جاتا تھا — وہی جس نے پرانے ڈیٹا کو ر
وشن کر دیا تھا، اور جس نے 1947ء کی ریکارڈنگ کو ز
ندہ کر دیا تھا۔
سہ روزہ رات، چینل کا سرور ڈاؤن ہوا۔ تمام زنانہ چ
ینلز بجھ گئے، لیکن ایک واحد چراغ نے اپنی گری بجھ
ی، جس کے ذریعے حویلی کی بوڑھی عورت کے کمرے کی چھ
ت پر ایک ہی پریشانی کی شکل ظاہر ہوئی — 1947ء کی
وہ لمحہ، جب اس کی والدہ کو چینل نے ایک گھر سے چھ
ین لیا تھا، اور وہاں کی خواتین کو "غیرت&quo
t; کے نام
پر دیوانہ کر دیا گیا تھا۔
چینل کا نظام بیٹھ گیا۔ اس کے بعد، تمام خواتین کے
چینلز میں ایک نئی اطلاع نظر آئی: "آپ کی غیرت کو
دوبارہ تصدیق کی ضرورت ہے" — لیکن اس بار، کوئی ر
یمٹ نہیں تھا، کوئی ڈیٹا نہیں، کوئی سرور نہیں۔ صر
ف ایک چراغ، جو اب تک جلتا ہے، اور جسے ہر رات وہی
بوڑھی عورت دیکھتی ہے — جس کی آنکھوں میں ایک قدی
م چیز کی تسلی ہے، اور جس کے سینے میں ایک نیا اعت
ماد ہے۔
سب کچھ ختم ہو گیا، لیکن اسی کے ساتھ ایک چراغ جل
رہا تھا — ہر رات، ہر سال، ایک سنجیدہ روشنی کے سا
تھ، جس نے دنیا کو دوبارہ بنانے کی اجازت دی تھی۔


