سائنس فکشن کا دنیا میں بہت کچھ تبدیل ہو گیا تھا:

انسانوں کے دماغ کو ہر ایک سرکاری ٹرانسمیشن سے م

نسلک کر دیا گیا، اور ہر شہری کو 'زنانہ&#039

; کے نشانا

ت کے ذریعے ریاست کی ہدایات کی تصدیق کرنی پڑتی۔ ی

ہ نشانات دماغی ڈیجیٹل سیل ہوتے، جو صرف ایک خاندا

نی ہیش کو نہیں، بلکہ تمام پاکستانیوں کو ہر حرکت

پر نگرانی کرتے۔

مہاجر نوجوان علی، لاہور سے کراچی منتقل ہوا تھا،

اپنے والد کی ہلاکت کے بعد، جب اسے پتہ چلا کہ وہ

سرکاری ڈیجیٹل ٹریفک کا حصہ بن گیا تھا — ہر ایک چ

لتے وقت، ہر چھوٹے سے اقدام کے بعد، اس کی خون کی

سطح، جذبات، حتیٰ کہ انگلیوں کی تھریل بھی ریکارڈ

ہو جاتی۔ اس کی نشاندہی کا بازو کہیں نہیں تھا، بس

ایک ہی بات ہو سکتی تھی: وہ کسی سیاسی ڈرامے کا ہ

دف بن گیا تھا۔

پھر وہ ایک دن ہوٹل کے سامنے کھڑا تھا، جہاں ایک ا

میر کے بیٹے نے اس کے کالر کے ساتھ ایک ہاتھ دکھای

ا — یہ تھا گھر کی طرف سے بھیجی گئی چیز، ایک جبری

شادی کی سیل۔ وہ دیکھتا رہا کہ ہر ایک اسے دیکھ ر

ہا تھا، ہر ایک اس کی خون کی سطح کو دیکھ رہا تھا،

اور سب کچھ سائنس فکشن کی دنیا میں ہو رہا تھا —

کوئی چیز نہیں چھپ سکتی تھی۔

جیسے ہی وہ گھر واپس گیا، ہوٹل کے چیف کو ڈیجیٹل ہ

دایت ملی کہ وہ اس کی جان لے لے۔ اس نے چیف کو ایک

بیٹی دی، اور اس کے ساتھ ایک ہاتھ کی تصویر دی، ج

س میں علی کا چہرہ نہیں تھا، بلکہ اس کے دماغ کا ڈ

یجیٹل نقش تھا۔ اس کے بعد ہوٹل کے گیٹ پر ایک چیخ

سنی گئی، اور ایک لاش گری — چیف کی، اور اس کی ہات

ھ کی تصویر اب اس کے ہاتھ میں تھی۔

علی نے اس چیز کو پھینک دیا، اور اپنے گھر کے دروا

زے پر ہاتھ رکھا — دماغ میں ہر ایک ہر ایک اس کے ب

یٹے کو دیکھ رہا تھا، اور ہر ایک یہ سمجھ رہا تھا

کہ یہ وہ ہے جس نے جبری شادی کی سیل چھوڑ دی۔ اس ک

ی امیر کے خاندان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا، لیک

ن وہی لوگ اس کے نام کو دیواروں پر لکھنے لگے — "ز

نانہ کا ٹریفک جام"۔

اب وہ ہر رات سڑک پر کھڑا ہوتا، اور ہر شخص جو اس

کے سامنے گزرے، اس کے دماغ کی سطح کو دیکھتا — اور

اس کی ہر حرکت کو ریکارڈ کرتا۔ متحرک دنیا میں، ہ

ر ایک جانتا تھا کہ یہ امیر و غریب کے درمیان ایک

اسکینڈل نہیں، بلکہ ایک نئی دنیا کا آغاز تھا — جہ

اں ہر ایک کو چھپنا نہیں، بلکہ ہر ایک کو چھوڑنا ہ

وگا۔