1947 کی تقسیم کے بعد لاہور کے قریب ایک چھوٹے سے
گاؤں میں، ایک بیوہ خاتون، زینب بیگم، اپنے شوہر ک
ی ہلاکت کے بعد بمبئی سے واپس آتی ہے۔ گاؤں تبدیل
ہے۔ ہر گھر کی چھت پر ایک سرخ سیارہ نصب ہے جو "جذ
باتی فیلڈ" خارج کرتا ہے — سائنس فکشن کا یہ آلہ ل
وگوں کے غصے، محبت اور افسوس کو منفی کر دیتا ہے۔
رشتے بے جان ہو گئے۔ بچے ماں سے لگنے سے انکار کرت
ے ہیں۔ شادیاں بغیر روئے ہوئے طے ہوتی ہیں۔
زینب بیگم کے دل میں پہلا جذبہ — غصہ — اُبھرتا ہے
جب وہ دیکھتی ہے کہ اس کی بیٹی کی منگنی اس کے خل
اف ہو رہی ہے، ایک شخص سے جس سے وہ محبت نہیں کرتی
۔ مشین اس کی ضد کام کرتی ہے، لیکن وہ بیوہ عورت ہ
ونے کی وجہ سے "غیر مربوط" قرار دی گئی
ہے — نظام
اسے نظرانداز کرتا ہے۔ یہی اس کی طاقت بن جاتی ہے۔
وہ اپنے جذبات کو محسوس کر سکتی ہے، جبکہ باقی دن
یا سُرد ہے۔
وہ راتوں کو گاؤں کے کنویں کے پاس بیٹھتی ہے، جہاں
سیارے کا فیلڈ کمزور ہوتا ہے۔ وہاں وہ لوگوں کو ا
پنے خواب، اپنی یادیں، اپنی نفرتیں سناتی ہے — الف
اظ بغیر بولے، صرف حرکتوں اور آنکھوں سے۔ ایک لڑکا
، جو مشین کے تحت پلایا گیا تھا، پہلی بار آنسو بہ
اتا ہے۔ اس دن سے، "زنانہ" کا رواج دوبا
رہ شروع ہو
تا ہے — عورتیں چھتوں کے نیچے اکٹھی ہوتی ہیں، چاد
ریں چُھپاتی ہیں، آنسو بہاتی ہیں، بغیر ڈر کے۔
مشین کا نظام خرابی کا شکار ہوتا ہے۔ پہلی بار، ای
ک بچی اپنی ماں کو گلے لگاتی ہے۔ نظام کا مرکزی سر
ور، حویلی کے تہہ خانے میں، گرم ہو کر پگھل جاتا ہ
ے۔ اس کے ساتھ، تمام ریکارڈ ضائع ہو جاتے ہیں — جن
میں "بیرون ملک واپسی والوں" کو غدار قر
ار دینے ک
ا حکم بھی شامل تھا۔
زینب بیگم اپنی بیٹی کو اس شخص سے بچا لیتی ہے جس
سے اس کی منگنی ہوئی تھی — ایک ایسا شخص جو خود مش
ین کا نگران تھا۔ آخری رات، وہ دونوں کنویں کے پاس
بیٹھتی ہیں۔ بیٹی کہتی ہے، "اماں، مجھے ڈر لگتا ہ
ے"، اور زینب صرف سر ہلا کر جواب دیتی ہے۔ اس رات،
گاؤں کی ہوا میں پہلی بار، ایک ماں کی گود کی گرم
ی لوٹ آتی ہے۔
سائنس فکشن کا دور ختم ہوتا ہے۔ جذبات واپس آتے ہی
ں۔ محبت اور نفرت دوبارہ دل کے اندر ہوتے ہیں، نہ
کہ کمپیوٹر کے اندر۔ زینب بیگم، بیوہ خاتون، ایک ن
ئی دنیا کی بنیاد بنتی ہے — جہاں جذباتی ہونا، جرم
نہیں بلکہ انسانیت ہے۔


