1947 کے بعد کی ایک خاص تاریخی زمین پر، جہاں تقسی

م ہند کے درد اب بھی عمارتوں کی دیواروں میں محفوظ

ہے، ایک نوکرانی اپنی حیثیت سے باہر نکلتی ہے۔ اس

کا نام لیلا ہے، جو ایک حویلی کے گھر میں کام کرت

ی ہے۔ اس کے مالک ایک سابق فوجی افسر ہیں، جو اب ہ

یروں کی داستانوں کے بجائے ایک غمگین شخص بن چکے ہ

یں۔

ایک دن، ایک غیروں کی سائنسی ترقی کی وجہ سے، ایک

نیا قانون لاگو ہوتا ہے: تمام لوگوں کو اپنی اصل د

ین کا اعلان کرنا پڑتا ہے۔ اس وقت تک، اسلامی شدت

پسندوں کے مقابلے میں، ایک مذہبی تبدیلی کی تحریک

چل رہی ہے۔ لیلا کے مالک نے اپنی دین کا اعلان کر

دیا، لیکن لیلا کو اپنی اصل دین کے بارے میں سوچنا

پڑتا ہے۔

اس کے گھر والوں نے اسے اسلامی ہونے کا دباؤ دیا،

لیکن وہ اپنی دل کی آواز کو ماننے کی کوشش کرتی ہے

۔ اس کے گھر والوں کے خلاف ایک جبری شادی کا خطرہ

بھی ہے۔ اس وقت، ایک فوجی جوانی کی داستان اس کے گ

ھر کے اندر سے سامنے آتی ہے۔ اس جوانی کا نام رفیق

ہے، جو ایک سابق فوجی ہے اور اب ایک مذہبی تبدیلی

کی تحریک میں شامل ہے۔

لیلا اور رفیق کی ملاقات ہو جاتی ہے، جس میں دونوں

ایک دوسرے کے ایمان اور فوجی جوانی کے درمیان تصا

دم کو سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد، ایک غیروں کی سائنسی

نسل کی ترقی کی وجہ سے، ایک نیا قانون لاگو ہوتا

ہے: جو شخص اپنی اصل دین کا اعلان نہیں کرے گا، وہ

ہر طرح سے ناقد کہلائے گا۔

لیلا کو اپنی اصل دین کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے،

اور وہ آخرکار اپنی دل کی آواز کو مانتی ہے۔ اس کے

گھر والوں کے خلاف ایک جبری شادی کا خطرہ ختم ہو

جاتا ہے، اور وہ اپنی فوجی جوانی کے ساتھ ایک نئی

زندگی کی طرف رہتی ہے۔

اس دنیا میں، ایک سائنسی تبدیلی نے مذہبی اور فوجی

جوانی کی داستانوں کو تبدیل کر دیا۔ لیلا کی فیصل

ہ کن کارروائی نے اس دنیا کے قوانین کو بدل دیا۔ ا

س کی تحریک، ایک نئی زمین کی راہ کی طرف لے جاتی ہ

ے۔