لاہور کی وصیت شدہ حویلی میں صبح کی نماز کے بعد چ
ابیاں غائب تھیں۔ زمین کا نقشہ، جو پچاس سال سے در
یچے کے پیچھے دیوار میں چھپا تھا، اب خالی تھا۔ تق
سیم کے وقت، حکومت نے "سرحدی تنازع" قان
ون نافذ کی
ا: تمام مشترکہ جاگیریں، جن کے مالک دونوں طرف کے
رہنے والے تھے، کو فوجی کمیشن کے حوالے کر دیا گیا
۔ زمین کا معاملہ اب عدالت میں نہیں، بازار میں تھ
ا۔
جگر، لاہور چھوڑ کر کراچی بھاگ گیا تھا۔ 1952 میں،
جب اس کی ماں کا انتقال ہوا، تو وہ واپس آیا۔ اس
کے کندھے پر فوجی نشان تھا، لیکن دل میں ایک وعدہ:
وہ نہیں لڑے گا، بس حق لوٹائے گا۔ وہ زنانہ حصے م
یں داخل ہوا — وہ حصہ جہاں مردوں کا داخلہ منع تھا
، جہاں بزرگ خواتین نے ہمیشہ فیصلے کیے تھے۔ ان کی
موجودگی، ان کی خاموشی، ان کی نظریں — یہ سب ایک
نظام تھا۔
وہ نے دیکھا: حویلی کے زنانہ میں ایک دیوار گر چکی
تھی۔ وہاں سے ایک سرنگ نکلتی تھی، جو سرحد کی طرف
جاتی تھی۔ یہ سرنگ، جسے "سرحدی تنازع" ق
انون کے ت
حت غیرقانونی قرار دیا گیا، مقامی کاروبار کی رگ ب
ن چکی تھی۔ کپڑے، گھروں کا سامان، دستاویزات — سب
اسی راستے بکتے تھے۔ جگر کے بھائی نے یہ سرنگ بنا
کر اپنا کاروبار چمکایا تھا۔ لیکن قیمت یہ تھی کہ
وہ حویلی کے ایماندار ورثے کو داؤ پر لگا چکا تھا۔
جگر نے سرنگ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بھائ
ی نے احتجاج کیا، لیکن قانون کا دباؤ تھا: کوئی بھ
ی سرحدی علاقے میں غیرقانونی راستہ رکھنے والا، اپ
نی زمین کا مستحق نہیں رہتا۔ فوج نے کاروباری دھند
ے کا خاتمہ کر دیا۔ کاروبار تباہ ہوا۔ بھائی نے جگ
ر کو بددعا دی، لیکن حویلی کا ورثہ بچ گیا۔
جگر نے زنانہ میں ایک نیا دروازہ بنوایا — خواتین
کے لیے علیحدہ نماز کی جگہ، تعلیم کا کمرہ، اور ای
ک الماری جہاں وصیتیں محفوظ تھیں۔ اس نے نہیں کہا
کچھ، لیکن اس کا عمل تھا: زنانہ اب صرف پردے کی جگ
ہ نہیں، بلکہ فیصلوں کا مرکز تھا۔
صبح کی روشنی حویلی کے صحن میں پھیل گئی۔ جگر نے م
اں کی قبر پر چادر بچھائی۔ فوجی کمیشن نے زمین کا
فیصلہ سنا دیا: "مالک غیرموجود" کی بجائ
ے، "مالک م
وجود، متحد، قانون کے پابند"۔ حویلی کا نام دوبارہ
رجسٹر ہوا۔
وہ لاہور چھوڑ کر نہیں گیا۔ وہ کراچی واپس گیا، لی
کن اب خط میں لکھا: "حویلی میں سکون ہے"۔


