1947 کے تقسیم کے سال، لاہور کی ایک حویلی میں زنا
نہ کے روزمرہ کے رسم و رواج بدل جاتے ہیں۔ مسلم لی
گ کی حکومت نے عورتوں کو آزادی کے نام پر نئی ذمہ
داریاں دیں، لیکن گھروں کے اندر باقی رہنما اصولیں
پرانی ہی رہیں۔
اس حویلی کے مالک، جج محمد علی، ایک ایماندار شخص
ہے۔ اس کی شادی ایک اعلیٰ فوجی افسر کی بیٹی سے ہو
ئی ہے۔ دونوں کی شادی کا مقصد محض اتحاد اور اثر و
رسوخ کا اظہار تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ،
دونوں کے درمیان دوری پیدا ہوتی چلی گئی۔
جب تقسیم کے بعد لاہور سے کراچی منتقل ہونا پڑا تو
زنانہ کے رسمیں اور احکامات بدل گئے۔ جج محمد علی
کو اپنی عورت کے ساتھ جوڑے کی ذمہ داری اور عورت
کے نئے آزادی کے احساس کے درمیان ایک تنازع پیدا ہ
وا۔
ایک دن، جب جج محمد علی ایک صوفی کی کتاب کے حوالے
سے ایک قرآنی اقتباس سن رہا تھا، اس کی نظر ایک غ
ائب ہوئی عورت پر پڑی۔ اس عورت کی تصویر اس کے دل
میں ایک نئی جگہ بن گئی۔ اس کے خیال میں ایک صوفیا
نہ عشق کی تلاش شروع ہو گئی۔
اس کی بیوی، جو اب ایک نئی آزادی کی نمائندہ تھی،
اس کے اس تبدیلی کو برداشت نہیں کر سکی۔ وہ اس کے
درمیان ایک انتقامی جوڑا بن گئی۔
جب تقسیم کے بعد لاہور سے کراچی منتقل ہونے کے سات
ھ ساتھ جج کی زندگی کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا، تو
وہ اپنی زندگی کے اصل معنی کی تلاش میں رومانوی ا
حساس کے ساتھ ایک نئی زندگی کی طرف راغب ہوا۔
اس کی بیوی اس کی اس تبدیلی کو سمجھ نہیں سکی۔ اس
نے اس کے ساتھ جوڑے کو ٹُوٹنے دیا۔ اس موقع پر، جج
محمد علی نے اپنی زندگی کی ایک نئی سمت اختیار کی
۔ اس نے ایک صوفی کے پاس جا کر اپنی روح کو دوبارہ
تازہ کیا۔
تقسیم کے دھوئیں میں، جب لاہور کی ہر گلی میں لوگو
ں کے دلوں میں انتقام اور گم شدگی کے احساس تھے، ت
و جج محمد علی نے اپنی زندگی کے لیے ایک نئی رومان
وی امید کو اپنایا۔
زنانہ کے قدیم اصولوں کے بدلے میں، اس نے ایک نئی
فضا میں اپنی شعوری روح کی تلاش کی۔ اس کے ساتھ جو
ڑے کا انتہائی احساس اس کے دل میں ڈوب گیا۔ اس کی
زندگی میں ایک ایسا لمحہ آیا جب اس کے دل میں صوفی
انہ عشق کی ہر گھڑی کا احساس ہوا۔
آخرکار، جب لاہور سے کراچی منتقل ہونے کے ساتھ سات
ھ زنانہ کے احکامات کی تبدیلی ہوئی تو، جج محمد عل
ی نے اپنی زندگی کے لیے ایک نئی رومانوی امید کو ا
پنایا۔ اس کے ساتھ جوڑے کا آخری احساس اس کے دل می
ں ڈوب گیا۔


