1947 کے بعد کراچی کی ایک حویلی میں، زنانہ نامی ب

وڑھی عورت اپنی گھریلو سبزی کی فصل پر نظر رکھتی ہ

ے۔ ان کی گردن میں ایک چوٹ لگی ہوئی ہے، جس کی وجہ

سے وہ ہر سانس لینے پر درد محسوس کرتی ہے۔ ان کے

گھر میں اب صلح کی کوئی گنجائش نہیں رہی، چند ماہ

قبل ایک جبری شادی کی خبر نے گھر کی ہر کھونٹی کو

حرکت میں لے آیا۔

تقسیم کے بعد کے ابتدائی جدیدیت کے دور میں، اس حو

یلی کے گھر والے سماجی قوانین کی طرف سے بندھے ہوئ

ے تھے۔ جبری شادی کے باعث گھر کے چاروں طرف جھگڑے

ہوئے، اور زنانہ کو اپنے بچوں کی بے چینی کو روکنے

کی ذمہ داری مل گئی۔ وہ گھر کی ہر چیز کو دوبارہ

ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن اس وقت کی نف

سیاتی محرمات اور اجتماعی دباؤ ان کے سامنے بے حد

مضبوط ہیں۔

ایک دن، زنانہ کو ایک اعلان ملتا ہے: ایک ہمسایہ ک

ے گھر میں ایک صوفی عشق کی تقریب ہو رہی ہے۔ اس تق

ریب میں گھر کے بعض لوگ شرکت کرنا چاہتے ہیں، لیکن

زنانہ کو اس کے ساتھ ایک انتقامی کہانی کا سامنا

ہے۔ 1947 کی تقسیم کی یادوں کے ساتھ جڑی ہوئی اس ک

ہانی کے باعث، وہ اپنے گھر والوں کو اس تقریب سے د

ور رکھنا چاہتی ہیں۔

رومانوی ہیجان کے ساتھ، زنانہ اپنے بچوں کو گھر می

ں رکھ کر ایک خفیہ ملاقات کرتی ہے۔ وہ ایک پرانے ا

فسانے کی تلاш میں ہیں، جس میں فوجی کہانیوں کے سا

تھ ایک صوفی عشق کا اثر دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ افسان

ہ ان کے گھر کی ہر کھونٹی کو دوبارہ ترتیب دینے کی

کوشش کرتا ہے۔

زنانہ کے ساتھ ہی، ان کی ہوم ڈاکٹر کی بیٹی کو ایک

پی ٹی وی یادیں کی تکمیل کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی ما

ں کے ساتھ ایک رازدار اتفاق کرتی ہے، جس کے ذریعے

وہ اپنے گھر کی ہر چیز کو دوبارہ ترتیب دے سکے۔ اس

ہیجان کے دوران، زنانہ کو ایک ہی ایک احساس ملتا

ہے: گھر کی ہر چیز کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنا، لی

کن اس کے باوجود، گھر کی نفسیاتی محرمات اور تقسیم

کے دباؤ ہمیشہ ان کے سامنے رہے گا۔

زنانہ کی آخری کوشش، گھر میں ایک خاندانی صلح کا ا

علان کرنا ہے۔ وہ اپنے بچوں کو ایک ہی بات سمجھانے

کی کوشش کرتی ہیں: جبری شادی کے سائے میں گھر کی

ہر چیز کو دوبارہ ترتیب دینا ضروری ہے۔ اس دن، زنا

نہ کی آنکھوں میں ہر چیز کی گرمی رہتی ہے۔ وہ ہر ہ

فتے ایک ہی ہویلی کی رات میں گھر کی ہر چیز کو دوب

ارہ ترتیب دے رہی ہیں۔ اس کی آخری کوشش کامیاب ہو

جاتی ہے، اور گھر کی ہر چیز ایک نئی شکل اختیار کر

لیتی ہے۔