قیامت کے بعد کی دنیا میں، بجلی کی تاریں کٹ چکی ت

ھیں، ریڈیو کی آواز گھبراہٹ سے بھری ہوئی، اور شہر

وں کے درمیان سڑکیں خالی تھیں۔ اس دور میں، حکومت

نے اپنے باقی ماندہ نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ا

یک نیا قانون نافذ کر دیا تھا: ہر شخص کی شناخت دو

سرے کے ذریعے ثابت ہونی چاہیے۔ اس کا نام اور فیمل

ی کی تفصیلیں ایک مرکزی پینل میں داخل کرنا لازمی

تھا۔

ایک ایماندار جج، علی خان، اس قانون کے خلاف احتجا

ج کرنے والے ایک گروہ کا حصہ بن گیا۔ اس گروہ نے ا

یک خفیہ شناخت کے ذریعے لوگوں کو محفوظ رکھنے کا م

نصوبہ بنایا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کی خصوصی

ات اور رازداری کو تحفظ دیں۔ اس کے لیے، وہ ایک دو

سرے پینل کا استعمال کر رہے تھے، جو حکومتی سسٹم س

ے غیر جڑا تھا۔

علی خان کے خاندان کی طرف سے دباؤ بڑھتا گیا۔ اس ک

ے بھائی، جو ایک حکومتی افسر تھا، نے اسے اپنے دفت

ر میں بلایا اور اسے خبر دی کہ اس کے خفیہ سسٹم کے

بارے میں پتہ چل گیا ہے۔ علی خان کو اپنی خفیہ شن

اخت کے اصل معلومات کے حوالے سے احتیاط کرنے کی ہد

ایت کی گئی۔ اس کے پاس وقت کم تھا۔

جب علی خان نے اپنی خفیہ شناخت کو ایک نئی جگہ منت

قل کرنے کا فیصلہ کیا تو، اس کی ایک اہم گھٹن کا ا

نجام اس کے خاندان کے لیے ہی نہیں، بلکہ اس کے پور

ے علاقے کے لیے ایک مشتعل مسئلہ بن گیا۔ حکومت نے

اس گروہ کے خلاف ایک فوجی آپریشن شروع کر دیا، جس

میں علی خان کے تمام ساتھی گرفتار کر لیے گئے۔

علی خان کو اپنی خفیہ شناخت کو چھپانے کے لیے ایک

پرانی حویلی میں چھپنا پڑا۔ اس کی آخری کوشش یہ تھ

ی کہ وہ اپنے خفیہ سسٹم کو ہر طرح سے محفوظ رکھے،

تاکہ کرپٹ نظام کے خلاف جنگ جاری رہے۔

قیامت کے بعد کی دنیا میں، علی خان کی جدوجہد نے ا

یک نئی روح کو جگایا۔ اس کے عمل نے اس زمانے کی ای

ک نئی اخلاقی تبدیلی کا آغاز کیا۔ اس کے ساتھیوں ک

ی گرفتاری نے اس کے دل میں ہر قسم کی ہمت کو جگایا

، لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کی جدوجہد ابھی ختم نہی

ں ہو گی۔