1947 کے بعد کے سالوں میں، تقسیم کے زخم ابھی تازہ
تھے، لوگ لاہور کی جانب بھاگے آئے تھے۔ ایک خاتون
، جس کا نام ریکارڈز میں "غیر مسلماں" ق
رار دے کر
حذف کر دیا گیا، اپنے گاؤں کی حویلی میں تنہا رہ گ
ئی۔ نظام نے اسے مردہ قرار دیا، مگر وہ زندہ تھی —
بدنام سمجھی جاتی، معاشرے سے کٹی ہوئی، مگر زندہ۔
وقت گزرا، ملک کا نظام بدل گیا۔ 1965 میں، پاکستان
نے "قومی شناخت کا نظام" متعارف کیا — ت
مام شہریو
ں کو ایک نمبر دیا گیا، جس پر حقِ رائے دہی منحصر
تھا۔ جو نام فہرست میں نہ ہو، وہ وجود نہیں رکھتا۔
یہ نیا دنیا تھا: انسان کی حقیقت اب ایک کاغذ کے
ٹکڑے پر منحصر تھی۔
مردانہ نظام — صرف مرد گھرانے کے سربراہ کے نام پر
فیملی رجسٹر ہوتی۔ عورت کا نام صرف شوہر یا باپ ک
ے تحت درج ہوتا۔ اگر وہ الگ ہو جائے، تو وہ ریکارڈ
سے مٹ جاتی۔ اس قانون نے عورتوں کو نظر انداز کرن
ے کا طریقہ وضع کیا — انہیں نہ صرف معاشرے بلکہ ری
است سے خارج کر دیا گیا۔
عورت، جسے ہر طرف سے "غائب" قرار دیا گی
ا، ایک دن
شہر کی دیوار پر لگی انتخابی فہرست دیکھتی ہے۔ اس
کی آنکھوں نے اپنا نام دیکھا — مگر "حذف شدہ&
quot; کے ن
شان سے نوازا گیا۔ اس کا وجود ریاست کی نظر میں اب
بھی جائز نہیں تھا۔ اس نے اپنا انگوٹھا فہرست کے
ساتھ والی دیوار پر رگڑا — ایک خون والا نشان چھوڑ
دیا۔
اس حرکت نے نظام کو ہلا دیا۔ انتخابی افسر نے نشان
دیکھا، رپورٹ لکھی، اور سوال اٹھا: اگر یہ عورت م
ردہ ہے، تو اس کا خون زندہ کیوں ہے؟ ریکارڈز کو دو
بارہ کھولا گیا۔ فائلیں گمشدہ، دستاویزات میں تضاد
، مقامی حکومت کے افسران کے خلاف الزامات۔ ایک چھو
ٹی سی داغدار دیوار نے پورے ضلع کے انتخابی منصوبے
کو معطل کر دیا۔
انتخابی مہم رک گئی۔ امیدوار، جو فتح کا یقین کر ر
ہا تھا، اب بے چین تھا۔ اس کی مہم کرپٹ نظام پر چل
رہی تھی — جس میں لاپتہ ووٹرز، جعلی فیملی رجسٹری
شن، اور عورتوں کے حقوق کو نظر انداز کرنے کا منصو
بہ شامل تھا۔ اب ایک واحد خواتین کا وجود اس کے تم
ام حسابات کو غلط ثابت کر رہا تھا۔
مقامی حکومت نے عورت کو گرفتار کرنے کا حکم دیا، م
گر وہ غائب ہو گئی۔ اس کی آخری تصویر ایک پرانی حو
یلی میں بنی — وہ ایک دیوار پر اپنا نام لکھ رہی ت
ھی، اور نیچے خون سے ایک ووٹ کا نشان بنایا۔
صبح ہوئی تو پورا شہر اُس دیوار کے گرد جمع تھا۔ ہ
زاروں لوگوں نے اپنے انگوٹھے اُسی جگہ رگڑے جہاں ا
س عورت نے اپنا نشان چھوڑا تھا۔ انتخابات منسوخ ہو
گئے۔ کرپٹ نظام کے افسران کو تبدیل کیا گیا۔
عورت کا جسم کبھی نہیں ملا۔ مگر اس کا نام، اب ہر
فہرست میں شامل تھا — نہ کسی مرد کے سائے میں، نہ
کسی حکومت کے جھوٹ میں۔ اس کی موجودگی نے ثابت کر
دیا کہ ایک بدنام عورت بھی نظام کو ہلا سکتی ہے۔
دنیا کا طریقہ بدل گیا: اب شناخت صرف کاغذ کا معام
لہ نہیں رہی۔ وجود کا حق، خون، داغ، اور دیوار کے
نشان سے بھی لیا جا سکتا تھا۔


