1947 کے بعد، پاکستان کی سطح پر زمین کا ایک حصہ ا
بھی تک تباہ ہوا ہے۔ گرجا گھر کی ریت میں سیاسی فر
قے کے نام پر دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ ایک سیاستدان کا
بیٹا، علی، چھوٹے شہر کے باہر ایک بے ہنگامہ جھیل
میں پناہ لیتا ہے۔ وہاں، وہ اپنے گھر والوں کے خلا
ف ایک غم کی داستان پڑھتا ہے۔ گزشتہ دنوں میں، اس
کے والد کو غداری کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
تھا۔
دنیا کی طرح، یہ جھیل بھی اب غیر منظم ہو چکی ہے۔
ہر کوئی اپنی بقاء کے لیے اپنی ہی سیاسی گروہ کی ح
مایت کرتا ہے۔ علی کو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ اپ
نی ایک ہی ہمدردی کی وجہ سے اپنی سیاسی گروہ کے سا
تھ مخالفت کر رہا ہے۔ وہ ایک دن ایک غریب کسان کے
ہاتھوں سے ایک سیاسی کتاب حاصل کرتا ہے۔ اس کتاب م
یں، ایک چھوٹا سا لفظ ’کرپٹ نظام‘ لکھا ہوا ہے۔
علی اس لفظ کو اپنے ہاتھوں سے ایک نئے لفظ میں تبد
یل کر دیتا ہے۔ اس کی باتوں کی وجہ سے، اس کی جھیل
میں ایک چھوٹا سا جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔ لوگوں ک
و لگتا ہے کہ وہ ایک نئی سیاسی تحریک کا مرکز بن گ
یا ہے۔
ایک دن، علی کو ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوتی ہے جو
اس کے والد کی گرفتاری کے خلاف سیاسی تحریک کی رہ
نمائی کر رہا ہے۔ اس وقت سے، علی اپنے ہاتھوں سے ا
یک ایسا نظام تیار کرنے کا فیصلہ کرتا ہے جو کرپٹ
سیاسی نظام کو ختم کر دے۔
دلچسپی کی بات یہ ہے کہ، اس نئے نظام میں، انسانوں
کو اپنی ذاتی صلاحیتوں کی بنیاد پر منتخب کیا جات
ا ہے۔ یہ ایک پراسرار فیصلہ ہے، لیکن اس کی مدد سے
، علی اپنے گھر والوں کو بچا لیتا ہے۔ اس کی تنہائ
ی کے سفر کا آخری لمحہ ہے، جب وہ اپنے سیاسی گروہ
کے ساتھ ایک نئی قیامت کی تیاری کر رہا ہے۔
دنیا میں اب کرپٹ نظام کی جگہ، ایک ایسا نظام ہے ج
س کا بنیاد انصاف اور عدالت پر ہے۔ علی کا سفر اس
وقت ختم ہو جاتا ہے جب وہ اپنی ہی جھیل میں ایک چھ
وٹا سا لفظ ’پراسرار‘ لکھ دیتا ہے۔


