1947 کے بعد کے سال، سرحد کا نظام بدل چکا تھا۔ نہ
یں رہیں گاؤں، نہیں رہیں حدود۔ جہاں لوگ رہتے تھے،
وہاں اب ریت کے بیل بنتے، اور رات کو سمگلروں کے
قافلے چلتے۔ حکومتی فوجی چوکیاں صرف نقشے پر تھیں۔
اصل طاقت ان راستوں میں تھی جو زمین کے نیچے، کنو
ؤں، اور پرانی حویلوں کے تہ خانوں سے گزرتے۔ دنیا
کا یہ نیا طریقِ کار تھا: کوئی سرکاری راستہ نہیں،
صرف وہی جو خون سے خریدا جائے۔
احمد، سابق فوجی جوان، جسے 1965 کی جنگ میں معذوری
کے بعد برخاست کیا گیا، لاہور کی ایک کچی بستی می
ں رہتا۔ اس کے بھائی کو 47 میں سرحد پار کرتے ہوئے
گولی مار دی گئی تھی۔ ماں، بہن، چچا — سب لاپتہ۔
فائلیں ضائع، ریکارڈ جل گیا۔ فوجی ریٹائرمنٹ کا پن
شن بمشکل کفالت کرتا۔ ایک دن، اسے ایک بوڑھے قصاب
سے معلوم ہوا کہ اس کی بہن کو ایک سمگلنگ ریکٹ میں
لاہور سے کراچی لایا گیا تھا، پھر افغانستان کے ر
استے بیرونِ ملک بیچ دیا گیا۔
احمد نے حوالدار کی وردی پھاڑ دی۔ اب وہ فوجی نہیں
تھا۔ وہ بدلہ لینے والا ہیرو تھا۔ اس نے سمگلنگ ر
وٹ کے نیٹ ورک کا تعاقب شروع کیا۔ ہر قدم پر خطرہ:
جنگل میں پہچانے جانے والے کارتوسوں والے، پولیس
کے مخبر، اور وہ قاعدہ جو دنیا میں اب چلتا — "کوئ
ی گواہ زندہ نہیں رہتا"۔ یہ قاعدہ اُس وقت اُس پر
چھایا جب اس نے ایک چھوٹے قصبے میں سمگلر کا تہ خا
نہ توڑا اور اندر زندہ بچیوں کو دیکھا — اپنی بہن
جیسی عمر کی۔ جواب میں، اس کے پیچھے والے گاؤں کو
آگ لگا دی گئی۔
احمد نے ایک قدیم سلسلہ وار زمیندار کی حویلی کو ا
پنا مرکز بنایا، جو سرحد کے قریب تھی اور زیر زمین
راستوں سے جُڑی تھی۔ وہاں سے اس نے خواتین کے سمگ
لنگ روٹ کو توڑنا شروع کیا۔ ہر چھاپے میں، وہ ایک
عورت کو چھڑاتا، اور ایک راستہ تباہ کرتا۔ اس کا ط
ریقہ: خواتین کو آزاد کرو، سمگلروں کے سر برشمنی م
یں لٹکاؤ، اور راستے میں دھماکہ کرو۔ اس کا وجود خ
ود ایک نئی قانونیت تھی — جہاں ریاست خاموش، وہاں
بدلہ بولتا۔
دنیا کا عمل بدل چکا تھا: اب سمگلنگ کے راستے خوف
کے تحت چلتے۔ ایک نام، "احمد"، چپکے سے
خواتین کے
گروہوں میں پھیل گیا۔ کراچی کے چھپے ہوئے بازاروں
میں، بکریوں والے گاہک اب ڈر گئے۔ ایک سمگلر نے اپ
نے ساتھی کو کہا: "اب ہم اُس کے راستے استعمال نہی
ں کریں گے جہاں وہ فوجی گزر چکا"۔
آخری واقعہ سرحد کے بالکل کنارے پر ہوا۔ احمد نے ا
یک بڑے سمگلر کا قافلہ روکا، جس میں اُس کی بہن نہ
یں تھی، لیکن اُس جیسی دس لڑکیاں تھیں۔ اس نے تمام
خواتین آزاد کروائیں۔ سمگلر کو زمین میں دبا دیا
گیا، صرف سر باہر، تاکہ چیونٹیاں اُسے کھا جائیں۔
احمد نے ایک بچی کو اپنی ماں کی تصویر دکھائی، جس
نے سر ہلایا۔ وہ بہن نہیں تھی، لیکن اُس کی آنکھوں
میں وہی درد تھا۔
صبح ہوئی تو احمد کی حویلی خالی تھی۔ کوئی لاش نہی
ں، کوئی نشان نہیں۔ صرف ایک فوجی بیج دروازے پر لٹ
کا تھا، اُس پر خون سے لکھا تھا: "انتقام پورا ہوا
"۔ راستے اب بند تھے۔ نئے سمگلر کوشش کرتے، لیکن ہ
ر بار کوئی نہ کوئی گاؤں والی عورت چیختی: "فوجی آ
یا ہے"۔ دنیا کا یہ نیا قاعدہ بن چکا: بعض انتقام،
قانون سے زیادہ ڈر جاتے ہیں۔


