لاہور کی سڑکیں 1952 میں مہاجرین کے سامان، ٹوٹے ہ

وئے برتنوں اور بچوں کی خالی نظریں لیے گھوم رہی ت

ھیں۔ تقسیم کے بعد سرکاری اسکول بند، اساتذہ بھاگے

، کتب خانے لوٹے جا چکے تھے۔ حکومت نے تعلیم کو "غ

یر ضروری بوجھ" قرار دیا تھا۔ اب صرف وہی پڑھ سکتا

تھا جس کے پاس زمین، طاقت یا کوئی پرانا نام ہو۔

ایک سابق فوجی افسر، جس کی ٹانگ پنجاب کی آخری لائ

ن پر گولی کھا چکی تھی، اپنی چھ سالہ بیٹی کو سکول

لے کر آیا۔ دروازے پر بورڈ لٹکا تھا: "بند۔ تعمیر

نو تک داخلہ ممنوع"۔ وہ اسکول کے پیچھے ایک خانقا

ہ کی طرف گیا، جہاں صوفی بزرگ کی قبر کے سائے میں

ایک بوڑھا خطاط بچوں کو الف بے سکھا رہا تھا۔ وہاں

کوئی سرٹیفکیٹ نہیں دیا جاتا تھا، نہ کوئی امتحان

لیا جاتا تھا، نہ کوئی حکومتی منظوری تھی۔ لیکن و

ہاں "تعلیم" زندہ تھی۔

افسر نے اپنی پنشن کا نصف حصہ دیا تاکہ اس مدرستہ

میں کاغذ، سیاہی اور دو چولہے لگ سکیں۔ اس نے خود

درخت کاٹ کر بنچ بنائے۔ لیکن ایک دن، ضلعی افسر نے

مدرستہ کو غیر قانونی قرار دے کر سب کچھ مسمار کر

دیا۔ اس کا حکم تھا: "حکومت کے بغیر تعلیم، بغاوت

ہے"۔

افسر نے اپنی فوجی وردی دوبارہ پہنی — نہ لڑائی کے

لیے، بلکہ عزت کے تحفظ کے لیے۔ اس نے شہر کے ہر م

حلے میں خط لکھے، ہر حویلی کے دروازے پر دستک دی۔

اس کی حرکت نے "زنانہ" رابطہ نظام حرکت

میں لایا —

عورتیں، جن کی رسائی بازاروں، مساجد اور گھروں تک

تھی، افواہوں کے ذریعے اطلاعات پہنچانے لگیں۔ ایک

ماں نے دودھ کی مشک میں کتابیں چھپائیں، دوسری نے

نماز کے بعد بچوں کو لکھنا سکھایا۔

ایک ہفتے بعد، افسر کو پتا چلا کہ ضلعی افسر خود ا

یک نجی اسکول چلا رہا ہے، جہاں صرف امیر بچے داخل

ہو سکتے تھے۔ وہیں اس کی بیٹی کو بھی داخلے کی پیش

کش ہوئی — بشرطیکہ وہ خاموش رہے۔ یہ دھوکہ اس کے و

جود کو چیر گیا۔ اس نے تمام دستاویزات اکٹھے کیے،

اپنی سابقہ فوجی رپورٹس کے ذریعے سرکاری دفاتر تک

رسائی حاصل کی، اور ثابت کیا کہ ضلعی افسر نے سرکا

ری فنڈز سے اسکول بنایا تھا۔

نتیجہ: ضلعی افسر معطل، مدرستہ کو عارضی منظوری مل

ی۔ ایک نئی قانونی حد نکتہ وجود میں آیا — "غیر سر

کاری تعلیمی اقدام"، جس نے لاہور میں چھوٹے اسکولو

ں کے دروازے کھول دیے۔

افسر نے اپنی بیٹی کو وہ کتاب دی جو اس نے پہلی با

ر پڑھی تھی — ایک قدیم دیوانِ غالب، جس کے آخری صف

حے پر لکھا تھا: "علم وہ واحد سرمایہ ہے جو چوری ن

ہیں ہو سکتا"۔ بارش کے بعد، سورج نکلا۔ بچوں کی آو

ازیں دیواروں سے ٹکرا کر اُونچائیوں کو چھونے لگیں

۔ امید، ایک بار پھر، زندہ تھی۔