1947 کی تقسیم کے بعد بچی ایک بچی، رحمٰت، پنجاب ک
ی سرحدی زمینوں پر اکیلی چلتی رہی، اس کے ساتھ صرف
ماں کا چادر تھا جس پر خون کے دھبے تھے۔ وہ اسی س
ال ایک بوڑھے زمیندار کے گھر بیوہ بہو کے طور پر ل
اگو ہوئی، جس کا بیٹا، ظفر، برطانیہ میں پل کر آیا
تھا۔
ظفر کی واپسی پر حکمِ فوجِ پاکستان نے تمام غیر مق
یم شہریوں کو واپس بلایا۔ وہ اپنی بیوی، لیلٰی، لے
کر آیا — ایک اسکاٹش عیسائی لڑکی جس نے اسلام قبو
ل کیا تھا، مگر زبان، لباس، چال میں اجنبیت تھی۔ ح
ویلی کے لوگوں نے اسے "غریبی کا داغ" کہ
ہ کر الگ ت
ھلگ کر دیا۔
قیامت کے بعد کا پہلا سال تھا: زمین کا نظام بدل گ
یا۔ دھرتی ہر سال کے آخر میں چار دن کے لیے سانس ر
وک لیتی۔ درخت مرجھا جاتے، نہریں خشک ہو جاتیں، او
ر صرف وہی زندہ رہتا جو حریمِ زنانہ میں بند رہ کر
"سچّی عبادت" کرتا۔ مردوں کو باہر نکلنے
پر پابند
ی، عورتوں کو ذمہ داری — اللہ کی نظر میں نیکی کا
وزن اب عورتوں کے اعمال پر تھا۔
لیلٰی نے حریم میں داخل ہوتے ہی دیواروں پر نقش کل
مات دیکھے — "جو خاموشی سے جائے، وہی بچے گا&
quot;۔ وہ
نماز میں شامل ہوئی، مگر اس کی دعا دوسری تھی۔ اس
نے حویلی کے صوفی بزرگ کی کتب میں چھپی کتاب "دل ک
ی زبان" پڑھی، جس میں لکھا تھا کہ "خدا
کو اعترافِ
محبت سے زیادہ کوئی عبادت نہیں"۔
حریم کی بزرگ بیگمات نے اسے سبق سکھانے کے لیے اس
کا استقبال ختم کر دیا۔ اس کے کپڑے چھین لیے گئے۔
اسے صرف ایک چادر دی گئی — وہی جو رحمٰت کی ماں کے
تابوت پر تھی۔ مگر لیلٰی نے وہ چادر پہن لی، اور
چار دن کی موت کے دوران وضو کیے بغیر نماز پڑھی، ک
یونکہ قاعدہ تھا: "جو پاک دل ہو، اسے پانی کی ضرور
ت نہیں"۔
زمین نے سانس لوٹا لیا۔ ایک ہی شخص بچا — لیلٰی۔ ب
اقی سب کے جسم خاک میں مل گئے۔ ظفر نے اسے دیکھا ت
و رو پڑا۔ اس نے اپنی بیوی کو چھوا، اور اسی لمحے،
حریم کی دیواروں پر لکھے کلمات مٹ گئے۔
ظفر نے حویلی کے دروازے کھول دیے۔ مردوں نے باہر ق
دم رکھا۔ زمین نے دوبارہ پھلنا پھولنا شروع کر دیا
، مگر اب عورتیں خود فیصلہ کرتی تھیں کہ نماز کہاں
، کیسے، اور کیوں پڑھنا ہے۔
لیلٰی نے آخری بار حویلی کی چھت سے سورج دیکھا — د
ھندلا، مگر موجود۔ اس نے اپنی انگلی سے آسمان کی ط
رف اشارہ کیا، اور وہی کلمہ دہرایا جو اس نے کتاب
میں پڑھا تھا: "محبت ہی واحد عبادت ہے"۔
ظفر نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ دونوں نے ایک دوسرے ک
و دیکھا — نہ کوئی خطاب، نہ کوئی وعدہ۔ صرف آنکھوں
میں وہ اعتراف تھا جس نے زمانے کے اداس پردے کو چ
اک کر دیا۔


