لاہور کے محلے میں ایک پرانی حویلی میں جج احمد عل

ی رہتے تھے، ان کے خاندان کی زمین کشمیر کے نزدیک

ایک گاؤں میں تھی، جہاں دونوں ممالک کے درمیان حد

بندی کے نام پر لڑائی چل رہی تھی۔ وہاں کے لوگوں ک

ا کہنا تھا کہ زمین صرف ماپی نہیں جاتی، بلکہ اس ک

ے ساتھ جڑی روحیں تھیں، جو صرف "ایماندار&quo

t; کے فیصل

ے سے سن سکتی تھیں۔

جب حکومت نے سرحد کی نشاندہی کے لیے نئی ٹیم بھیجی

، تو گاؤں والوں نے احتجاج کیا کہ یہ زمین تقسیم ن

ہیں ہو سکتی — یہ "زنانہ" رسم کے تحت خو

اتین کی مل

کیت تھی، جس کا فیصلہ کسی مرد نہیں کر سکتا تھا۔ ر

سم کے مطابق، زمین کی حفاظت کرنے والی روح صرف ایک

"ایماندار جج" کی آواز پہ جاگتی، جو نہ

خریدا گیا

ہو، نہ ڈرایا گیا ہو۔

سرکاری ٹیم نے نقشہ تبدیل کر دیا، لیکن نقشے کے سا

تھ زمین کی روح غائب ہو گئی۔ گاؤں کی فصلیں مرتی گ

ئیں، چاہیں کتنی ہی بار بیج بونے کی کوشش کی جائے۔

بزرگوں نے کہا: "روح واپس آئے گی صرف اگر ایماندا

ر جج زنانہ رسم کے تحت فیصلہ کرے۔"

جج احمد علی کو طلب کیا گیا۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی

گاؤں پہنچے۔ وہاں، زمین کی روح نے اندر سے اشارہ

کیا — ایک بوتل میں پرانا پانی، ایک خالی دیے کا ب

رتن، اور مٹی میں دبی ایک چادر ملی، جس پر نام لکھ

ے تھے تمام خواتین کے، جنہوں نے یہ زمین بچائی تھی

۔

انہوں نے فیصلہ دیا: سرحد کو ہٹایا جائے، زمین کو

"زنانہ" کے تحت خواتین کے نام کیا جائے،

اور کسی ب

ھی حکومتی تبدیلی کے بغیر رسم منائی جائے۔ فیصلے ک

ے بعد، روح واپس آ گئی — اگلے دن، مٹی سے نیا پودا

اُگ آیا، جس کی جڑیں خودبخود سرحدی لکیر مٹاتی گئ

یں۔

زمین کا نظام بدل گیا: اب کوئی بھی سرحدی تبدیلی ص

رف تب ہوتی جب زمین کی روح "ایماندار" ک

ے فیصلے سے

راضی ہوتی۔ جج نے عزت بچائی، نہ صرف گاؤں کی، بلک

ہ اپنی بھی، جب ان کا فیصلہ پورے خطے میں قانون بن

ا۔

آخری منظر میں، بارش ہوئی، بچیوں نے چادر اوڑھی، ا

ور رقص کیا — زمین نے پھر سے سانس لی۔