1947 کے بعد، ہویلی کی بوڑھی عورت نے اپنے پورے گھ

ر کو تاریخی زمین میں تبدیل کردیا۔ اس کے باپ نے ا

س وقت ہندوستان کے حوالے سے ایک عہد کیا تھا جب ہن

دوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم ہوئی۔ وہ ہویلی

کی دیواروں کو اپنی قبر سمجھتی تھی۔ لیکن جب اس ک

ے بیٹے نے اپنی شادی کی تیاری کی، تو اس نے اپنی ز

ندگی کا آخری فرار کیا۔

اس کے گھر کی دیواروں کے اندر ایک چھپا ہوا مذہبی

مخطوطہ تھا جو اس کے باپ نے اس وقت چھپایا تھا۔ اس

مخطوطے میں ہندوستان کے آزادی کے خوابوں کی اصل ت

صویر تھی۔ لیکن اس کے بیٹے نے اسے ایک دشمن کی طرح

دیکھنا شروع کر دیا۔

جب ہویلی کے گھر کی چابیاں ہاتھ سے جا گئیں، تو اس

نے اپنی ساری مالیات کو ایک سفر کی صورت میں بدل

دیا۔ اس نے اپنے دوستوں کے گھروں میں پناہ لی۔ لیک

ن اس کے دل میں ایک احساس تھا کہ اس کا گھر اس سے

دور ہو گیا۔

ہویلی کے گھر کی دیواروں میں ایک قانون تھا: "ہر ف

رد اپنی زندگی کی خود انتخاب کرے۔" لیکن اس وقت اس

قانون کو بھی اس کے بیٹے نے اپنی مرضی کے مطابق ب

دل دیا۔

جب اس کے بیٹے نے اپنی شادی کی تیاری کا اعلان کیا

، تو اس نے اپنی زندگی کا آخری فرار کیا۔ اس نے اپ

نے گھر کے دروازے پر ایک چھوٹا سا لکھا لکھا: "یہا

ں سے فرار ہونے والی روح کبھی واپس نہیں آتی۔"

اس کی ہویلی کبھی ایک گھر نہیں رہی۔ اب وہ ایک تار

یخی زمین بن گئی۔ اس کے گھر کی دیواروں میں اب سار

ا احساس چھوٹ گیا۔ اس کی زندگی کا آخری فرار، اس ک

ی نفسیاتی زندگی کا آخری تبدیلی بن گیا۔