1947 کے بعد، لاہور کے ایک دلدلی علاقے میں زنانہ،
ایک غائب ہوئی جنرل کی لاش کی نعش کے ساتھ مل جات
ی ہے۔ اس کے پاس ایک نامعلوم نمبر لکھا ہوا ہوتا ہ
ے، جو امیر وارث کے ساتھ رابطہ کرنے والے ایک غیبی
نیٹ ورک کا سربراہ ہے۔ اس وقت شہر میں فینٹسی کی
دنیا سے باہر نکلنے والی ایک نئی قوت ظاہر ہوتی ہے
— ایک ایسا نظام جس میں آسمانی لکھتیں انسانی اراد
وں کے ساتھ ملتی ہیں۔
شہری تنہائی کی طرح، اس نظام میں ہر شخص اپنی جگہ
پر ہی رہتا ہے، لیکن چند چھپے ہوئے راستوں کے ذریع
ے سب کچھ ایک جگہ جمع ہو جاتا ہے۔ امیر وارث، ایک
سابق فوجی، اپنے بیٹے کی گمشدگی کے پیچھے جا رہا ہ
ے، جس کا نام اسی نمبر پر لکھا ہوا ہے۔
سیاسی قتل کے ایک گروہ نے اس نمبر کو اپنی تحریک ک
ا حصہ بنالیا ہے، اور اسی دن امیر وارث کو ایک مذہ
بی اجتماع میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ وہاں اس کے سامن
ے ایک ایسی تصویر دکھائی دیتی ہے جو اس کے گم شدہ
بیٹے کی ہے، لیکن اس کے ہاتھ میں ایک گولی لگی ہوئ
ی ہے۔
خوفناک ہواؤں میں، اس کو احساس ہوتا ہے کہ یہ ایک
ایسی ڈیل ہے جو اس کی ذاتی تاریخ کو ہی توڑ دے گی۔
اس نے ایک فیصلہ کیا، اور اس فیصلے نے اس کی زندگ
ی کو مکمل طور پر بدل دیا۔ وہ اپنے بیٹے کی لاش کو
ایک ایسے مقام پر لے جاتا ہے جہاں اس کی بیوی اور
دوسرے رشتے دار اسے دیکھنے آتے ہیں۔ اس وقت اس کی
آنکھوں میں ایک ہلکا سا روشنی کا چمکنے لگتا ہے،
جیسے کہ اس کی روح دوبارہ زندہ ہو گئی ہو۔
سیاسی قتل کے گروہ کے سربراہ، ایک چھپا ہوا مذہبی
رہنما، اس دن کے بعد ایک بڑے اجتماع میں اپنی تقری
ر کے دوران انتقال کر جاتا ہے۔ اس کی موت کی وجوہا
ت کوئی بھی نہیں جانتا، لیکن اس کی لاش کے ساتھ ای
ک ایسی چیز مل جاتی ہے جو امیر وارث کے بیٹے کے ہا
تھ سے گم ہو چکی تھی۔
ایک نیا قانون جو شہر میں نافذ ہوتا ہے، اس کا نام
"غائب امیر" ہے، اور اس کے تحت، ہر شخص
جو اپنے گ
م شدہ رشتے دار کی تلاش میں ہے، اسے ایک نئی دنیا
میں داخل ہونا پڑتا ہے۔ اس دنیا میں، ہر شخص کی زن
دگی ایک ایسی ہستی کی طرح ہوتی ہے جس کا وجود دوسر
ے کے وجود سے وابستہ ہوتا ہے۔


