1947 کی گرمی میں، پنجاب کے ایک گاؤں کو آگ لگ گئی

۔ لوگ بھاگے، رشتے ٹوٹے، زمین نے مردے نگل لیے۔ زی

نب کا خاندان بمبئی سے لاہور پہنچا، مگر وہاں بھی

جگہ نہ ملی۔ اُنہیں ایک صوفی بزرگ کی حویلی کے سائ

ے میں پناہ ملی، جہاں وقت کا بہاؤ مختلف تھا — ہر

شب جب چاند سرخ ہوتا، دریائے روح کھل جاتا اور مرد

ے بول اٹھتے۔ یہ فنتاسی کا قانون تھا: جو شخص بھی

اپنی قبر کے پتھر پر نام لکھ دے، وہ ہر پورنِمہ کو

واپس آ سکتا ہے۔

حویلی کے اردگرد سات قبیلے آباد تھے، جن کی زمینیں

ایک دوسرے میں الجھی تھیں۔ مرد صرف خون سے فیصلہ

کرتے۔ عورتیں خاموش رہتیں، مگر زینب نے دیکھا کہ خ

واتین کی روحیں دریائے روح میں ڈوبی ہوئی ہیں — کی

ونکہ ان کے نام قبروں پر نہیں لکھے جاتے تھے۔ یہی

فنتاسی کا نیا اصول بن گیا: نام لکھے بغیر روح آزا

د نہیں ہو سکتی۔

زینب نے عورتوں کی ایک گینگ بنا لی۔ انہوں نے چھپ

کر مردوں کی قبروں کے پتھروں پر اپنے نام کندہ کرن

ے شروع کیے۔ ہر نام کے ساتھ، ایک روح بیدار ہوتی،

اور حق مانگتی۔ مرد قبیلہ دار غصے میں آئے۔ انہوں

نے حملہ کیا، مگر حویلی کی دیواریں صوفی کلام سے م

ہر بند تھیں — جو بھی نفرت کے ساتھ قدم رکھتا، اس

کی آواز چھین لی جاتی۔

قبائلی جنگ چھڑ گئی۔ مرد ایک دوسرے کے خلاف اُٹھ ک

ھڑے ہوئے، کیونکہ ہر وہ مرد جس کی قبر پر عورت کا

نام لکھا گیا، اس کی روح گواہی دینے آتی کہ اس نے

ظلم کیا تھا۔ زمینیں تقسیم ہونے لگیں۔ کوئی زمین ک

سی کی نہ رہی۔

زینب نے آخری قدم اٹھایا: اس نے حویلی کے صحن میں

ایک بل بنا دیا، جس میں ہر عورت نے اپنا نام، درد،

اور وعدہ لکھ کر ڈالا۔ جب چاند سرخ ہوا، تو تمام

ناموں نے مل کر ایک روشنی چھوڑی، جو دریائے روح کو

خشک کر گئی۔ اب کوئی روح واپس نہ آ سکے گی۔

فنتاسی کا نظام ختم ہو گیا۔ دنیا پھر عام ہو گئی۔

مگر عورتوں کے نام قبروں پر موجود تھے۔ مرد خاموش

ہو گئے۔ کوئی جنگ نہ رہی، مگر کوئی جشن بھی نہ ہوا

۔ زینب حویلی میں رہ گئی، اکیلی، چراغ جلاتی، اور

ناموں کی فہرست دیکھتی۔

خواتین کی آزادی مل گئی، مگر قیمت اداسی تھی۔ گینگ

لیڈر بننا اس کے لیے نعمت نہیں، بوجھ تھا۔ قبائلی

جنگ ختم ہوئی، مگر زمین کا ہر ذرہ تقسیم ہند کی ی

اد دلاتا۔ فنتاسی نظام نے دنیا بدل دی، مگر دل نہی

ں۔ زینب کی جیت مکمل تھی، مگر دل میں ایک سوراخ تھ

ا — جو کبھی نہ بھرا۔