1947 کے بعد کے فینٹسی دور میں، جب تقسیم ہند کے د

رد نے پورے خطے کو تاریخی طور پر بدل دیا، ایک فوج

ی افسر اپنے خاندان کے غم کے باعث ایک صوفی خانقاہ

کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔ اس خانقاہ کی بنیاد 1800

کی دہائی میں ایک سلطنت کے آخری دور میں رکھی گئی

تھی، جہاں وقت کا قانون مختلف ہے۔ ہر چاند کی روش

نی میں ایک نئی دنیا کھلتی ہے، جہاں خاندانی عزت ک

ا معنی اور دنیا کا قانون تبدیل ہو جاتا ہے۔

فوجی افسر، لیفٹیننٹ عامر، اپنے والد کی موت کے بع

د اپنے خاندان کی عزت کی ذمہ داری لیتا ہے۔ وہ اپن

ی بہن کی شادی کے معاملے میں مبتلا ہو جاتا ہے، جو

ایک محترم خاندان کی لڑکی ہے۔ خاندان کے لوگ اسے

ایک سیاسی خاندان کے ساتھ منسلک کرنا چاہتے ہیں، ج

و اس خانقاہ کے نزدیک ہے۔ اس کی بہن کو جبری شادی

کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

صوفی خانقاہ میں داخل ہونے کے بعد، لیفٹیننٹ عامر

کو پتہ چلتا ہے کہ یہ خانقاہ ایک سیاسی اتحاد کی ج

ڑ ہے، جو تقسیم ہند کے وقت پاکستان کی تشکیل کے دو

ران ایک اہم کردار ادا کر چکی ہے۔ خانقاہ کے قدیم

علوم میں ایک قانون ہے: "کوئی شخص اپنے خاندان کے

غم کو دوسرے کے ہاتھ میں نہیں دے سکتا"۔ اس قانون

کی خلاف ورزی کے باعث خانقاہ کے لوگ اسے دھمکی دیت

ے ہیں۔

لیفٹیننٹ عامر کی بہن کی شادی کے معاملے میں ایک ا

داس فیصلہ ہوتا ہے۔ وہ خانقاہ کے ایک قدیم قانون ک

ے تحت اپنی بہن کو آزاد کر دیتا ہے۔ اس کے لیے اپن

ے خاندان کے غم کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ خانقاہ کے

لوگ اسے ایک سیاسی دشمن کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں

۔

آخرکار، اس کی بہن کی شادی کی رخصت حاصل ہو جاتی ہ

ے۔ لیکن اس کے خاندان کی عزت کے نام پر اس کا نام

ہمیشہ کیلئے گمشدہ ہو جاتا ہے۔ خانقاہ کے لوگ اسے

ایک سیاسی تحریک کے ایک اہم شخصیت کے طور پر یاد ک

رتے ہیں۔ اس کی داستان اب ایک اداس فوجی کہانی کے

طور پر خاندانی ڈراموں میں پڑھی جاتی ہے۔