1947 کی گرمیوں میں لاہور کے ایک گلی محلے میں، ای
ک سادہ لوح اسکول ٹیچر، مولوی صاحب کے نام سے معرو
ف، بچوں کو الف بے سکھاتا تھا۔ ان کے ہاتھوں میں ا
یک پرانی دستار تھی، جسے وہ کبھی نہیں اتارتے تھے
— اس کے اندر ایک صوفی ورثے کا ذرّہ تھا، جو وقت ک
ے ساتھ جلتا رہتا۔
تقسیمِ ہند کے بعد، شہر کے نقشے بدل گئے۔ لوگ نہیں
گئے تھے — بلکہ زمین خود ہر رات ڈھل جاتی، نئے من
ظر پیدا ہوتے، جیسے کوئی قدیم روح نے زمین کو دوبا
رہ سانس لینے پر مجبور کر دیا ہو۔ یہ فینٹسی تبدیل
ی تھی: اب زمین وفا نہیں کرتی تھی، صرف وہی راستہ
کھلا رہتا جہاں کسی کا دل سچا ہوتا۔
مولوی صاحب کو اپنی کلاس کے بچوں کو ایک نئی سرحد
پار کر کے اسلام آباد کے ایک نئے اسکول میں لے جان
ا تھا۔ سرکاری گاڑیوں کا نظام ختم ہو چکا تھا۔ صرف
سمگلنگ روٹ چلتے تھے — غیرقانونی، پرخطر راستے جن
ہیں "سُراغِ دل" کہا جاتا تھا۔ ان راستو
ں پر صرف و
ہی گزرا جس کے ارادے صاف ہوتے۔
سمگلروں نے اسے روکا۔ ایک کالے چولے والے بازار می
ں، جہاں لوگ اپنی یادیں بیچ کر راستہ خریدتے، انہو
ں نے مولوی صاحب کی دستار چھین لی۔ لیکن جیسے ہی د
ستار چھوٹی، ایک نیلی لکیر زمین پر پھیل گئی — ہوا
میں نغمہ اٹھا، جسے کوئی نہیں سن سکتا تھا مگر تم
ام بچے رو پڑے۔
فینٹسی قانون نے دستک دی: صوفیانہ عشق اب ایک قابل
ِ ناپ طاقت تھا۔ جس کا دل محبت سے بھرا ہوتا، وہ ز
مین کو روشن کر دیتا۔ مولوی صاحب کی دستار واپس آ
گئی، لیکن اب وہ چمک رہی تھی۔ سمگلر زمین پر گر گئ
ے — ان کے ارادوں کی کالِک نے انہیں جلا دیا۔
مولوی صاحب نے بچوں کو سُراغِ دل پر چلا کر اسلام
آباد پہنچایا۔ راستے میں، ہر ویرانے میں ایک نیا چ
شمہ پھوٹا، ہر مسموم ہوا میں پھول کھلے۔ یہ مردانہ
تھا — نہ کہ تلوار سے، بلکہ دل کی مضبوطی سے، جس
نے فضا کو بدل دیا۔
آخری منزل پر، اسکول کی دیواریں خودبخود اُبھر آئی
ں — اینٹیں نہیں، بلکہ الفاظ سے بنی تھیں: "علم نو
ر ہے"۔ مولوی صاحب نے دستار اتاری، اسے درخت کی جڑ
وں میں دبا دیا۔ ایک نیم کا پودا اُگ آیا، جس کی چ
ھال پر ننھی چھنی آنکھیں تھیں۔
دنیا اب ہر صبح دوبارہ جنم لیتی — اب صرف وہی راست
ہ چلتا جہاں کسی کا دل صاف ہوتا۔ مولوی صاحب واپس
نہیں آیا۔ لیکن اب ہر بچہ جو اسکول داخل ہوتا، اپن
ے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی دستار لیے ہوتا — جلتی ہو
ئی، متحرک، زندہ۔


