1948 کے موسمِ خزاں میں، لاہور کے قریب ایک سن رسی

دہ حویلی کی مالکن، بیگم رضیہ، اپنے واحد بیٹے عمر

کو فوج میں بھرتی ہوتے دیکھتی ہے۔ وہ اس کے لباس

کو تیل سے صاف کرتی ہے، چمڑے کی جوتیوں کو چمکاتی

ہے، اور اس کی یونیفارم پر پاکستان کا سرخ و سفید

بیج لگاتی ہے۔ وہ راتوں کو اس کے لیے دعا کرتی ہے،

کہ اللہ اس کی حفاظت کرے۔

حویلی کے نیچے قدیم زمانے کی ایک زیرِ زمین درگاہ

تھی، جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ زمین کی ر

وح کو قید کیے ہوئے ہے۔ جب تک درگاہ پر مٹی کا ایک

ڈھیر رہتا، زمین خاموش رہتی۔ لیکن جب فوجی تربیت

کے دوران عمر ایک مشق میں غلطی سے اپنی بے ترتیب ت

لوار سے اس ڈھیر کو توڑ دیتا ہے، تو زمین کانپتی ہ

ے۔

اسی رات، حویلی کے فرش ہلنے لگتے ہیں۔ دیواروں سے

خشخشات آتی ہیں، جیسے کوئی نیچے سے کھدائی کر رہا

ہو۔ بیگم رضیہ اپنے بیڈروم میں بیٹھی کوراں پاک کی

تلاوت کرتی ہے، لیکن روشنی کے بلب مر جاتے ہیں۔ ا

گلے دن، باغ کی مٹی میں سے ایک کالا، گول پتھر نکل

تا ہے، جس پر عربی میں "تم نے وعدہ توڑا&quot

; لکھا ہوت

ا ہے۔

مقامی مولوی صاحب کہتے ہیں کہ یہ "زمین کا غص

ہ" ہے

۔ کوئی انسان نہیں، بلکہ زمین خود حرکت کر رہی ہے۔

ہر وہ شخص جو کسی فوجی کے خاندان سے تعلق رکھتا ہ

ے، اب اس زمین کا دشمن ہے، کیونکہ فوج نے اس خطے ک

ی تقسیم کے وقت قدیم قبرستان کو توڑ کر نئی سڑکیں

بنائی تھیں۔ زمین اب اپنا حق واپس لے رہی ہے۔

بیگم رضیہ حویلی کی حفاظت کے لیے تمام دروازوں پر

تیل کے چراغ جلاتی ہے، جنہیں مقامی روایت میں "جان

وروں کے خلاف بچاؤ" کہا جاتا ہے۔ وہ اپنے بیٹے کے

خطوط کو چادر میں لپیٹ کر زمین میں دبا دیتی ہے، م

انگتی ہے کہ زمین معاف کر دے۔ لیکن ایک رات، حویلی

کا اُترن ڈھہ جاتا ہے۔ کوئی طوفان نہیں تھا، نہ ز

لزلہ — صرف زمین نے ایک طرف کو کھینچ لیا۔

عمر کا آخری خط موصول ہوتا ہے: وہ گولی لگنے کے با

وجود زندہ ہے، لیکن اب وہ واپس نہیں آ سکتا۔ اس کی

ٹانگیں گم ہو چکی ہیں۔ بیگم رضیہ خط پڑھ کر چپ ہو

جاتی ہے۔ وہ حویلی کے باہر کھڑی ہو کر زمین کو دی

کھتی ہے، جو اب ہر روز تھوڑی تھوڑی کھسک رہی ہے۔

وہ اپنے بیٹے کی یونیفارم پہنتی ہے، اسے چمکاتی ہے

، اور اپنے سر پر سفید دوپٹہ باندھتی ہے۔ پھر وہ ح

ویلی کے دروازے کھولتی ہے، اور زمین کے کنارے پر ک

ھڑی ہو کر اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھا لیتی ہے۔ و

ہ ایک لمبا سجدہ کرتی ہے، پیشانی مٹی سے لگی ہوتی

ہے۔

صبح ہوتی ہے۔ حویلی بالکل ویسی ہی کھڑی ہے، لیکن ا

ب اس کے چاروں طرف ایک گہرا، گول کھدرا ہے، جیسے ک

وئی زمین کو چاٹ رہا ہو۔ بیگم رضیہ کا کوئی نشان ن

ہیں۔ صرف ایک چمکدار فوجی بٹن دروازے کے سامنے مٹی

میں دھسا ہوا ہے۔

زمین خاموش ہو گئی۔ لیکن ہر بار جب بارش ہوتی ہے،

تو اس کھدرے سے ایک ہلکی سی فوجی مارچ کی آواز آتی

ہے — جیسے کوئی اندر چل رہا ہو۔