لاہور کے اندرون شہر میں، حسن چولہے کی لو سے گزار
ا کرتا تھا۔ صبح سویرے وہ حویلوں کے باورچی خانوں
میں داخل ہوتا، بیوی کے ساتھ کمرے میں رہتا، دونوں
کے درمیان بول چال کم، رسم زیادہ۔ مردانہ کی عزت
کا معیار یہ تھا کہ مرد گھر کا منہ دیکھ کر نہ آئے
، اور حسن ہر روز اُس معیار سے گرا۔
ایک دن، حویلی کے مالک نے کہا کہ آج حسن کو اپنی ب
یوی کے ساتھ رات گزارنی ہوگی، ورنہ تنخواہ نہیں۔ ح
سن نے منہ موڑ لیا۔ اس رات، بیوی نے چولہے کی لو م
یں اپنا چادر جھونک دیا۔ صبح، چولہا خودبخود جل اٹ
ھا — بغیر لکڑی، بغیر دھواں، بلکہ لو میں الفاظ دک
ھائی دیے: "تمہاری آگ میری ہے"۔
فینٹسی کی دنیا کا قانون ٹوٹ چکا تھا: لاہور میں ا
ب کوئی آگ نہیں بجھ سکتی تھی۔ جو بھی چولہا جلتا،
وہ انسان بن جاتا۔ دیواریں بولنے لگیں، برتن خود چ
ل پڑے، اور چولہے کی لو نے حسن کے ہاتھوں کو پکڑ ل
یا۔ روایت بمقابلہ جدت کا میدان بن گیا: جہاں بزرگ
چولہے کو خاموشی سے جلانے کا حکم دیتے، وہاں لو ن
ے ان کے گھروں کی بنیادیں ہلا دیں۔
حسن کی بیوی، جس کا نام کبھی نہیں لیا گیا، چولہے
میں شامل ہو گئی۔ اب وہ آواز تھی جو دیگ میں ابلتی
، برتن میں بولتی۔ شادی شدہ جوڑے کا رشتہ اب فزیکل
نہیں، بلکہ عناصر کا تعلق تھا — حسن زمین پر چلتا
، وہ آگ میں بستی۔
مردانہ کا ایک اور قانون: عورت کی آواز گھر تک محد
ود، لیکن اب وہ لاہور کی فضا میں تیر رہی تھی۔ جب
بزرگوں نے چولہا بند کرنے کا حکم دیا، تو تمام چول
ہے خود بخود جل اٹھے۔ ایک ماہ تک نہ کوئی برف پگھل
ی، نہ برفانی ہوا چلی۔ دنیا کا نظام بدل گیا: اب آ
گ نے کھانا پکانا چھوڑ دیا، بلکہ فیصلے کرنے شروع
کیے۔
آخری شب، حسن نے اپنی حویلی میں داخل ہونے کی کوشش
کی۔ دروازہ بند تھا۔ اس نے چولہے کی لو کو سینے س
ے لگا لیا۔ صبح، حویلی غائب تھی۔ جہاں تھی، وہاں ا
یک نیا چولہا کھڑا تھا — بڑا، خاموش، اور ہر روز آ
دھی رات کو جلتا۔
لاہور کے لوگوں نے کہا کہ حسن مر گیا۔ لیکن جو بھی
اس چولہے کے پاس بیٹھتا، اسے دو سائے نظر آتے — ا
یک جھکا ہوا، دوسرا لو میں ڈوبتا۔ اب کوئی بھی چول
ہا صرف کھانا نہیں پکاتا۔ وہ یاد دلاتا ہے۔
سنجیدہ رہنے کا مطلب تبدیل ہو گیا: خاموشی اب کمزو
ری نہیں، بلکہ طاقت کا انتظار تھی۔


