نمبردار کی بیوی عارفہ اپنے بیٹے کو جنگ میں لے جا

تی ہے۔ وہ ایک فینٹسی دنیا میں رہتی ہے جہاں پانی

کی کمی ہر گھر کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ جب نمبرد

ار کے قبیلے کے لوگ اس کے گھر میں چھا جاتے ہیں، ت

و عارفہ اپنی ہر گھڑی کو ایک ہتھیار بنادیتی ہے۔

ایک روز، نمبردار کے بھائی نے اپنی بیوی کو غیر قا

نونی طور پر لے جانے کا حکم دیا۔ عارفہ اس کے جواب

میں گاؤں کے ہر گھر میں پانی کی چھوٹی چھوٹی ٹینک

یاں لے جاتی ہے۔ جب نمبردار اس کے گھر جاتا ہے، تو

اس کے سامنے ایک خاتون اپنی بیٹی کو ایک فینٹسی ہ

تھیار سے مار دیتی ہے۔

نمبردار کی ہر حرکت کے بعد ایک نئی قبیلہ جنگ شروع

ہوتی ہے۔ عارفہ اپنی ہر گھڑی کو ایک قربانی بنادی

تی ہے۔ جب نمبردار کے قبیلے کے لوگ اس کے گھر میں

چھا جاتے ہیں، تو وہ اپنی بیٹی کو ایک فینٹسی ہتھی

ار سے مار دیتی ہے۔

جیسے جیسے ہر قبیلہ جنگ بڑھتی جاتی ہے، عارفہ اپنی

ہر گھڑی کو ایک ہتھیار بنادیتی ہے۔ نمبردار کے بھ

ائی نے ایک فینٹسی ہتھیار کا استعمال کرکے اس کی ب

یوی کو مار دیا۔ جب نمبردار اس کے گھر جاتا ہے، تو

وہ اپنی ہر گھڑی کو ایک قربانی بنادیتی ہے۔

آخر کار، نمبردار کی بیوی عارفہ اپنی ہر گھڑی کو ا

یک فینٹسی ہتھیار بنادیتی ہے۔ وہ اپنی بیٹی کو ایک

فینٹسی ہتھیار سے مار دیتی ہے۔ نمبردار کے قبیلے

کے لوگ اس کے گھر میں چھا جاتے ہیں، اور اس کی بیو

ی کو ایک فینٹسی ہتھیار سے مار دیتے ہیں۔

عاقبت کی ہر گھڑی فینٹسی ہتھیار کی طرف جاتی ہے۔ ن

مبردار کے بھائی نے اس کی بیوی کو ایک فینٹسی ہتھی

ار سے مار دیا۔ جب نمبردار اس کے گھر جاتا ہے، تو

وہ اپنی ہر گھڑی کو ایک قربانی بنادیتی ہے۔

نمبردار کی بیوی عارفہ اپنی ہر گھڑی کو ایک فینٹسی

ہتھیار بنادیتی ہے۔ وہ اپنی بیٹی کو ایک فینٹسی ہ

تھیار سے مار دیتی ہے۔ نمبردار کے قبیلے کے لوگ اس

کے گھر میں چھا جاتے ہیں، اور اس کی بیوی کو ایک

فینٹسی ہتھیار سے مار دیتے ہیں۔