تقسیم ہند کے بعد، لاہور کے ایک قدیم گھر میں، ایک
حویلی کی بوڑھی عورت اپنی گردن کی چوٹ کے باعث ہم
یشہ کمزور رہی۔ 1950 کی دہائی میں، اس کے گھر میں
ایک بچہ پیدا ہوتا ہے جس کی ماں غائب ہے۔ محلے کے
لوگ اسے "ناجائز اولاد" کہتے ہیں، لیکن
عورت خاموش
رہتی ہے۔
اس گھر کی روایت ہے کہ ایک بچہ اپنی ماں کی چھوٹی
سی تصویر کے ساتھ آتا ہے، جو ہر سال ہر موسم میں م
ختلف رنگوں میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ 1962 میں، جب اس
بچے کی عمر 13 سال ہو جاتی ہے، اس کی چھوٹی بہن اس
ے گھر سے نکال دی جاتی ہے۔ عورت کو احساس ہوتا ہے
کہ وہ اس گھر کا اصل راز جانتی ہے۔
1965 کے جنگ کے دوران، گھر کی دیواریں ٹوٹ جاتی ہی
ں۔ عورت اپنی چھوٹی سی تصویر کے ساتھ گھر کے اندرو
نی حصے میں چھپ جاتی ہے۔ اس کی موت کے بعد، اس کے
بیٹے کو اس چھوٹی تصویر میں ایک حوالہ مل جاتا ہے:
ایک چھوٹا سا نام۔ اس وقت وہ سمجھ جاتا ہے کہ اس
کی ماں کا گھر ہی نہیں، بلکہ اس کا وجود ہی ایک مح
رمات تھا۔
عمر کے آخری دنوں میں، یہ گھر فلسفیانہ طور پر اپن
ی دیواروں کے درمیان ایک سچ کو بیان کرتا ہے: جب د
نیا کے اطراف سے آدمی کے قدم چلتے ہیں، تو اس کے ا
ندر ہر بچہ ایک محرمات بن جاتا ہے۔


