1850 کے قدیم دور میں، ہر گاؤں میں ایک دینی تقدس

کا حوالہ دیتی ہوئی زنانہ ہوتی ہے، جس کا کام خاند

ان کے نام کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔ میں، رضیہ، ایک

نوکرانی ہوں، جس کا خاندان گزشتہ پچاس سال سے ایک

مذہبی ماڈل کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ہمارا گھر، ش

ہر سے دور، ایک قلعے جیسا ہے، جہاں ہر روز کی گھوڑ

ا دوڑ سے ایک اور عہد کا آغاز ہوتا ہے۔

میرا باپ، ایک بزرگ فقیہ، ہر سال 25 مارچ کو ہمارے

گھر پر جمع ہوتا ہے۔ اس دن، ہر گھر کی زنانہ کو ا

یک نیا گھوڑا دیا جاتا ہے۔ یہ گھوڑا، اس سال کی ہر

خاندانی شادی کا اشارہ ہوتا ہے۔ میں نے اپنے بچپن

میں اس گھوڑے کی دوڑ کو دیکھا، لیکن اب میرا خیال

ہے کہ یہ گھوڑا ایک دوسری زندگی کا نمونہ ہے۔

میرے والد نے مجھے ایک گھوڑے کی ذمہ داری سونپ دی۔

اس کا نام "خواجہ غلام" تھا۔ میں نے اسے

دیکھا، ا

س کے ہر قدم پر ایک ہی آواز سنی، جیسے ہر گھوڑے کے

اندر ایک دینی قانون چل رہا ہوتا ہے۔

جب میں 19 سال کی ہوئی تو، میرا خاندان ایک بڑی خا

ندانی شادی کے لیے تیار ہو گیا۔ میرا باپ نے مجھے

ایک گھوڑے کی گردن پر ہاتھ رکھ کر کہا: "تمہارا گھ

وڑا، تمہاری شادی کا اشارہ ہے۔" میں نے اس کی بات

منظور کر لی، لیکن میرے دل میں ایک ایسا گھوڑا تھا

، جو میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔

میرے والد کے ہاتھوں میں ایک قانون تھا: ہر زنانہ

کو اپنے گھوڑے کی گردن پر ہاتھ رکھ کر شادی کرنی چ

اہیے۔ لیکن میں نے اپنے گھوڑے کے پیچھے سے ہاتھ نہ

یں رکھا۔ یہ ایک بڑا غلطی تھی۔ میرا خاندان نے مجھ

ے ایک بڑے خاندانی گھر سے نکال دیا۔ میں نے اپنے گ

ھوڑے کو آخری دفعہ دیکھا، اس وقت جب وہ میری ہمت ک

ے ساتھ گھوڑا دوڑ کر گزرا۔

میرے خاندان کی ہر گھوڑا دوڑ، ایک دوسری زندگی کا

آغاز ہوتا ہے۔ میں نے اپنے گھوڑے کے ساتھ ایک ایسی

زندگی گزاری، جس میں مذہبی تقدس کی گنجائش نہیں ت

ھی۔ میں نے اپنے گھوڑے کو ایک ایسی زندگی میں جانا

، جہاں میرا خاندان کبھی نہیں ہو گا۔

اب میں ایک دوسری زندگی کی طرف جا رہی ہوں، جہاں م

یرا گھوڑا دوبارہ دوڑے گا۔ لیکن یہ گھوڑا، میری خو

د کی زندگی کا نمائندہ ہو گا۔ میں نے اپنے گھوڑے ک

ے ساتھ ایک نیا عہد کیا، ایک ایسی زندگی کا جہاں م

ذہبی تقدس کے نام پر نہیں کسی کی زندگی ٹوٹے گی۔