1947 کے بعد کے قدیم دور میں، دیہاتی علاقے میں زم

ین کے املاک پر جاگیردارانہ قبضہ ناممکن ہو چکا تھ

ا۔ مگر جب گاؤں کے سربراہ، جنہیں جاگیردار کہا جات

ا تھا، نے معصوم دیہاتی لڑکی رابعہ کو اپنی بیٹی ک

ے طور پر پیش کیا، تو اس کا خاندان قرض کے بوجھ می

ں دب چکا تھا۔ ان کی والدہ، جو ایک زنانہ تھی، اس

بات کی گواہ تھیں کہ گاؤں کی ہر چیز اس جاگیردار ک

ے حوالے تھی۔

رابعہ کے والد نے اپنی آخری چیز، ایک باغ کی زمین،

جاگیردار کو فروخت کر دی۔ لیکن اس کے باوجود، جاگ

یردار نے اپنے قبضے کو مزید مضبوط کرنے کے لیے اس

کی بیٹی کی شادی اپنے بیٹے سے کرائی۔ رابعہ نے اسے

جبری شادی کے دھوکے میں ڈال دیا۔

اس موقع پر، ایک خفیہ قانون آگیا: جو شخص جاگیردار

کے خلاف کوئی بات کرے، اس کا خاندان ہمیشہ کے لیے

گھر سے نکال دیا جائے گا۔ اس قانون کی وجہ سے، را

بعہ کے خاندان کو گاؤں سے نکال دیا گیا۔ وہ ایک خو

فناک رات کے دھوکے میں ڈالی گئی، جب اس کی والدہ ن

ے اپنی جان قربان کر دی۔

جب رابعہ نے اپنے خاندان کی نجات کے لیے جاگیردار

کے خلاف احتجاج کیا، تو اس کی کوششیں خوفناک انجام

تک پہنچ گئیں۔ اس کے بعد، گاؤں کے لوگوں نے جاگیر

دار کے خلاف ایک اجتماع کیا، جس کے نتیجے میں اس ک

ا قبضہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔

رابعہ، جس کی زندگی ایک جبری شادی کے دھوکے میں ڈا

لی گئی تھی، اب ایک قیادت کی حیثیت سے اپنے گاؤں ک

ے مستقبل کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس کی کہانی ہر دی

ہاتی لڑکی کے لیے ایک روشنی کی طرح ہے۔